خضدار حملہ ناقابل برداشت، بھارت کی پراکسی جنگ بند ہونی چاہیے: اسحاق ڈار

خضدار حملہ ناقابل برداشت، بھارت کی پراکسی جنگ بند ہونی چاہیے: اسحاق ڈار
کیپشن: خضدار حملہ ناقابل برداشت، بھارت کی پراکسی جنگ بند ہونی چاہیے: اسحاق ڈار

ویب ڈیسک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے دہشتگرد حملے کو انتہائی قابل مذمت اور ناقابل برداشت قرار دیا ہے، اور بھارت کی مبینہ پراکسی سرگرمیوں پر شدید تنقید کی ہے۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں جاری اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’’خضدار واقعے پر بھارتی پراکسیز کو باز آجانا چاہیے، معرکہ حق میں جو ہوابھارت کو سبق سیکھنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف مشترکہ قومی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔

“دہشتگردی کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے”

اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ اے پی ایس سانحہ جیسے دل دہلا دینے والے واقعات پاکستان کے زخموں کو تازہ کر دیتے ہیں، اور اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ ماضی کی غلطیوں میں سرحدیں کھول کر ہزاروں افراد کو پاکستان میں داخل ہونے دیا گیا، جس کے نتائج آج قوم بھگت رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور خطے کو دہشتگردی سے پاک کرنا انتہائی ضروری ہے۔ چین کے حالیہ دورے میں بھی دہشتگردی کے خلاف تعاون پر بات چیت ہوئی۔

پاکستان-افریقہ دوستی کا دن منانے کی تجویز

اجلاس میں نائب وزیراعظم نے "افریقہ فرینڈشپ ڈے" کے طور پر 25 مئی کو منانے کی تجویز پیش کی، اور افریقی اقوام کی آزادی کی جدوجہد کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی امن فوج میں حصہ لے کر افریقی ممالک کی خدمت کی ہے۔

سینیٹرز کا بھارت کیخلاف شدید ردعمل اور کارروائی کا مطالبہ

سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خضدار حملے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو دہشتگردوں کو مالی امداد اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بچیوں کے خون سے جو انقلاب اُٹھے گا، وہ بھارت کے لیے مہنگا پڑے گا۔‘‘

سینیٹر شیری رحمان نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دوسرا اے پی ایس قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم طالبات کو نشانہ بنانا نہایت سفاک عمل ہے اور دہشتگردوں کے خلاف ایک بے رحم آپریشن کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھارت کی جانب سے فنڈنگ ملنے کا الزام بھی دہرایا۔

بس بہت ہو چکا، دہشتگردوں اور سہولت کیلئے کوئی نرمی نہیں: بیرسٹر علی ظفر
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کل خضدار میں دہشتگردوں کی جانب سے معصوم بچیوں کو نشانہ بنایا گیا، شہید بچیوں کے ورثا سے دلی اظہار ہمدردی کرتا ہوں، حکومت سے کہنا چاہتا ہوں بس بہت ہو چکا، دہشتگرد اور ان کے سہولت کار کسی ہمدردی کے مستحق نہیں، بھارت متعدد دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، دنیا پر ثابت کیا ہم اخلاقی، سفارتی اور فوجی لحاظ سے بالادست ہیں، خبردار کیا تھا زخمی چوہا مودی دہشت گردی سے بدلہ لینا چاہے گا۔

بیرسٹر علی ظفر کا مزید کہنا تھا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی، بھارت کی پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی، مسئلہ کشمیر،سندھ طاس معاہدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

دہشتگردوں کو جواب دینے کا وقت آگیا ہے: انوار الحق کاکڑ
سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معصوم بچوں کی شہادت کا دلخراش واقعہ پیش آیا، روایتی جنگ میں شکست کے بعد بھارت کے آلہ کاروں نے خضدار میں بچوں کو شہید کیا، دہشتگردوں کو جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ کی بنیاد پر پاکستان پر حملہ آور ہونے کے پیچھے ایک شدت پسند سوچ کارفرما ہے، آر ایس ایس کے خواب کا حصول بی جے پی نے حاصل کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست پاکستان قائداعظم اور علامہ اقبال نے تشکیل دی، حالیہ دنوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دو قومی نظریے پر گفتگو کی، یہ ان کے ذہن کی چیز نہیں بلکہ ایک تاریخ تھی، اس کی آر ایس ایس کو بہت تکلیف ہوئی۔

انوارالحق کاکڑ نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دینا قابل تحسین ہے۔

نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوگا تو ایسے واقعات ہوتے رہیں گے: ایمل ولی خان
سینیٹ اجلاس میں سینیٹر ایمل ولی خان نے اے پی ایس سانحے کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان پر عدم عملدرآمد پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوگا تو ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اُن افسران کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی جنہوں نے اس پالیسی پر عمل نہیں کیا؟ پچاس سال میں یہ طے نہیں ہو سکا کہ طالبان گڈ ہیں یا بیڈ، یہ بھی طے نہیں ہو سکا کہ یہ دہشتگرد ہیں یا سٹریٹیجک اثاثے؟ وفاق میں 50، 60 وزارتیں بیٹھی کیا کر رہی ہیں؟

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام اب پراکسی جنگوں سے تنگ آ چکے ہیں، ہمیں امن امریکا یا سعودیہ سے نہیں، اپنے دفاعی ادارے سے چاہیے، ایسے شاید جانوروں کو بھی نہ مارا جائے جیسے ہمارے معصوم بچوں کو شہید کیا گیا۔

سینیٹر ایمل ولی نے خطے میں امن کی پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران اور افغانستان سے بات کرنی چاہیے اور مفروضوں سے نکل کر تجارت کی طرف جانا ہوگا۔

ایمل ولی خان نے گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی اے کے متنازع ریمارکس پر احتجاج کا معاملہ بھی اجلاس میں اٹھایا، جس پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھجوا دیا اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی رائے طلب کر لی۔

Watch Live Public News