(ویب ڈیسک) بھارتی صحافی نارویجین صحافیوں سے سبق لے کر مودی حکومت کے بارے میں انکشافات سامنے لانا شروع ہو گئے۔
ایک بھارتی صحافی تنو شری پانڈے نے بھارت میں میڈیا پر مبینہ پابندیوں اور پریس کی آزادی پر قدغن کے حوالے سے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں صحافت کی آزادی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور صحافیوں کو حکومتی دباؤ، سنسرشپ، دھمکیوں، اور تنقیدی رپورٹنگ کو دبانے جیسے حالات کا سامنا ہے۔
بھارتی صحافی تنو شری پانڈے نے کہا کہ ہمیں بھارت میں اپنی پریس فریڈم کے بارے میں کسی نارویجین صحافی کے بتانے کی ضرورت نہیں۔ہم بھارت کے صحافی ہیں اور ہم یہ حقیقت برسوں سے جھیل رہے ہیں۔ بھارت میں عملی طور پر پریس فریڈم موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ہم دوستانہ اسٹوڈیوز میں اسکرپٹ شدہ انٹرویوز نہ کریں، جوابدہی صفر ہے۔اگر آپ سخت سوال کریں تو آپ کے خلاف آئی ٹی سیل متحرک کر دیا جاتا ہے۔اتنا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ صحافت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔حقیقی جوابدہی موجود نہیں ہے۔
بھارتی صحافی نے کہاکہ ہم منی پور جیسے واقعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں، لیکن صورتحال مختلف ہے۔سچ یہ ہے کہ صحافی خوف کے ماحول میں کام کر رہے ہیں۔ مین اسٹریم میڈیا میں آزاد رپورٹنگ کی جگہ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔نیوز رومز پر دباؤ ڈالنے کے بجائے کئی کو براہِ راست متاثر یا کنٹرول کیا گیا ہے۔آزاد نیوز رومز کو مسلسل کمزور کیا گیا ہے۔
تنوشری پانڈے نے کہا کہ تنقیدی سوال اٹھانے والے صحافی اداروں سے باہر ہو چکے ہیں۔بہت سے بڑے صحافی اب یوٹیوب، ٹوئٹر یا بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کام کر رہے ہیں۔یہ انتخاب نہیں بلکہ مجبوری ہے کیونکہ اندرونی میڈیا میں جگہ نہیں رہی۔ہاتھرس جیسے واقعات میں اصل کہانی سامنے لانا مشکل تھا۔حکومتی دباؤ کی وجہ سے کئی رپورٹس شائع نہیں ہو سکیں۔گائے کے نام پر تشدد کرنے والے گروہوں، بدعنوانی اور دیگر حساس موضوعات پر بھی رپورٹس دب گئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیری پنڈتوں سے متعلق حقائق بھی مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکے۔حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار نہ کریں، کیونکہ یہ واضح ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں آزادی صحافت نا ہونے کے برابر ہے ۔آزاد میڈیا کو جمہوری ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ بھارتی ریاست چوتھے ستون کے بغیر کھڑی ہے جس کا مطلب ہے بھارت میں جمہوری اقدار کا خاتمہ ہو چکا ہے، بھارت میں ہندتوا اولیگارچ کی حکمرانی ہے۔