ویب ڈیسک: ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک بار پھر کمپنی کی قیادت میں فعال کردار ادا کریں گے اور امریکی حکومت کے متنازعہ ادارے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) میں اپنی مصروفیت کو کم کریں گے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے مسک نے کہا کہ"مئی سے میں DOGE میں صرف ایک یا دو دن کام کروں گا۔ میرا زیادہ وقت اب دوبارہ ٹیسلا کو دیا جائے گا۔"
ٹیسلا کو تاریخی مالی نقصان، تجارتی جنگ اور سیاسی کردار پر تنقید
ٹیسلا نے حالیہ سہ ماہی رپورٹ میں بتایا کہ اس کی آمدنی میں 9 فیصد اور گاڑیوں کی آمدنی میں 20 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ خالص منافع 71 فیصد گر چکا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ اس کے مستقبل کو غیر یقینی بنا رہی ہے۔
اگرچہ ٹیسلا دیگر آٹو مینوفیکچررز کے مقابلے میں ٹیرف سے کم متاثر ہوتی ہے، کیونکہ یہ اپنی گاڑیاں امریکا میں تیار کرتی ہے، مگر اس کے پرزہ جات کی درآمد پر اثر پڑا ہے۔
مسک نے تجارتی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال پر براہِ راست صدر ٹرمپ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا، تاہم انہوں نے کہا کہ"ٹیرف کا فیصلہ امریکی صدرکا اختیار ہے۔ میں صرف مشورہ دے سکتا ہوں، اور میں ہمیشہ کم ٹیرف کے حق میں رہا ہوں۔"
سیلز میں تاریخی کمی اور مظاہروں کا سامنا
2024 کی پہلی سہ ماہی میں ٹیسلا کی فروخت میں 50,000 گاڑیوں کی کمی ہوئی، جو کمپنی کی تاریخ کی سب سے بڑی کمی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کمی کی ایک بڑی وجہ مسک کا سیاسی کردار ہے، جس کی وجہ سے یورپ میں مظاہرے اور امریکا میں شورومز پر توڑ پھوڑ دیکھنے میں آئی۔
مسک نے ان مظاہروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا"یہ وہی لوگ ہیں جنہیں DOGE نے 'ویسٹ اینڈ فراڈ' کے خلاف کارروائی میں نشانہ بنایا۔ ملک کی بہتری کے لیے یہ کام ضروری ہے۔ اگر امریکا کی کشتی ڈوبی تو ٹیسلا بھی ڈوبے گی۔"
شیئرز میں بہتری، مگر طویل المدتی چیلنجز برقرار
ایلون مسک کے DOGE سے علیحدگی کے اعلان کے بعد ٹیسلا کے شیئرز میں 4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم کمپنی کے اسٹاک نے دسمبر سے اب تک اپنی آدھی قدر کھو دی ہے۔
مسک نے اس بات پر زور دیا کہ کمپنی کا مستقبل اب بھی روشن ہے۔" ٹیسلا کا مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہے۔ ہم خودکار گاڑیوں اور ہیومینائڈ روبوٹس پر کام کر رہے ہیں، جو جلد ہی ایک ’خوشحال دور‘ لائیں گے۔"
چینی کمپنیوں سے مقابلہ اور نئی گاڑیوں کی تیاری
ٹیسلا نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ جون کے آخر تک مزید سستی گاڑیاں متعارف کروانے کا ارادہ ہے، اور اگلے سال بغیر اسٹیئرنگ اور بریک پیڈلز والی ڈرائیورلیس "روبوٹیکسی" متعارف کروائی جائے گی۔
تاہم، چینی کمپنی BYD نے حالیہ سہ ماہی میں ایک بار پھر EV سیلز میں ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2025 میں ٹیسلا دنیا کی سب سے بڑی EV کمپنی کا اعزاز کھو سکتی ہے۔
چین، جو ٹیسلا کا دوسرا بڑا بازار ہے، کے متعلق کمپنی نے اس بار کوئی علیحدہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔