ٹرمپ کایوٹرن،چین کیخلاف ٹیرف میں کمی کا عندیہ

ٹرمپ کایوٹرن،چین کیخلاف ٹیرف میں کمی کا عندیہ
کیپشن: ٹرمپ کایوٹرن،چین کیخلاف ٹیرف میں کمی کا عندیہ

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی میں نرمی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چینی مصنوعات پر عائد بھاری ٹیرف میں "نمایاں کمی" آئے گی، تاہم یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ"145 فیصد ٹیرف بہت زیادہ ہے، اور یہ اتنا زیادہ نہیں رہے گا۔ یہ سطح کافی حد تک کم کی جائے گی، لیکن صفر نہیں ہوگی۔"

یہ بیان امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان موجودہ ٹیرف کی شرح نے دونوں معیشتوں کے درمیان تجارت کو مؤثر طور پر معطل کر دیا ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے ایک نجی سرمایہ کاری کانفرنس میں کہا کہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ ایک ناقابلِ برداشت صورتحال اختیار کر چکی ہے اور اس کا جلد خاتمہ متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا مقصد مکمل علیحدگی نہیں بلکہ تجارت میں توازن پیدا کرنا ہے۔

چین کا ردعمل

چین نے امریکی اقدامات کے جواب میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف 125 فیصد تک بڑھا دیے ہیں، متعدد امریکی کمپنیوں کو "ناقابلِ اعتماد اداروں" کی فہرست میں شامل کیا ہے اور حساس معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

چین نے امریکی تفریحی صنعت کو بھی نشانہ بنایا ہے اور ہالی ووڈ کی فلموں کی درآمد محدود کر دی ہے، جبکہ دو بوئنگ طیارے بھی واپس کر دیے گئے ہیں جو چینی ایئر لائنز کے لیے خریدے گئے تھے۔

مذاکرات کی امید

اس تمام کشیدگی کے باوجود صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے چینی صدر شی جن پنگ سے تعلقات "انتہائی خوشگوار" ہیں اور وہ امید رکھتے ہیں کہ چین مذاکرات کے لیے پہل کرے گا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ہم بہت نرمی سے بات کریں گے، وہ بھی نرمی سے پیش آئیں گے، اور ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ لیکن آخرکار، انہیں کوئی معاہدہ کرنا ہی ہوگا، ورنہ وہ امریکی منڈی تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے" ۔

انہوں نے مزید کہا کہ"میرا ماننا ہے کہ ہم ایک ساتھ خوشی سے رہ سکتے ہیں اور مثالی طور پر مل کر کام کر سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سب کچھ اچھے طریقے سے طے پا جائے گا۔"

Watch Live Public News