فلسطین کے حق میں مظاہرے پر گرفتار2غیرملکی طلباء سےامریکی اراکین کانگریس کی ملاقات

فلسطین کے حق میں مظاہرے پر گرفتار2غیرملکی طلباء سےامریکی اراکین کانگریس کی ملاقات
کیپشن: فلسطین کے حق میں مظاہرے پر گرفتار2غیرملکی طلباء سےامریکی اراکین کانگریس کی ملاقات

ویب ڈیسک: ڈیموکریٹک پارٹی کے چند اراکینِ کانگریس نے لوزیانا کی امیگریشن جیلوں میں قید دو غیر ملکی طلبا سے ملاقات کی ہے، جنہیں وائٹ ہاؤس کی جانب سے ملک بدر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ان طلبا میں سے ایک محمود خلیل ہیں جوکہ کولمبیا یونیورسٹی سےگریجویٹ کرچکے ہیں۔ دوسری طالبہ رمیسا اوزترک ہیں جو کہ ٹفٹس یونیورسٹی میساچوسٹس سے پی ایچ ڈی اسکالر  ہیں۔ ان طلبا کو مارچ میں الگ الگ گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں نے یونیورسٹی کیمپسز پر فلسطین کے حق میں مظاہروں میں شرکت کی تھی۔

اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن؟

ڈیموکریٹ رہنما کلیو فیلڈز، ٹری کارٹر (لوزیانا)، بینی تھامسن (میسیسیپی)، ایانا پریسلی (میساچوسٹس) اور سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے لوزیانا میں واقع ICE کی دو جیلوں کا دورہ کیا، جہاں دونوں طلبا قید ہیں۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیموکریٹ نمائندہ ٹری کارٹر نے کہا کہ "ہم ان کو یہ بتانے آئے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اظہارِ رائے کی آزادی کا دفاع کرتے ہیں۔"

سینیٹر مارکی نے بتایا کہ دونوں طلبا پر کوئی مجرمانہ الزام عائد نہیں کیا گیا ہے، اور ان کی گرفتاری کو وائٹ ہاؤس کی پالیسی قرار دیا جو کہ مبینہ "یہود دشمنی" کے خلاف سخت کارروائی کے نام پر کی جا رہی ہے۔

طبی سہولیات کی کمی، انسانی حقوق پر سوالات

رپورٹ کے مطابق، رمیسا اوزترک کو دورانِ حراست دمے کے متعدد دورے پڑے ہیں، مگر انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ محمود خلیل کو 8 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا، اور اس وقت سے وہ لوزیانا کی امیگریشن جیل میں قید ہیں۔

محمود، جو نیویارک میں مقیم تھے، 2024 میں کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطین حامی مظاہروں میں مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے۔ ان کے خلاف کارروائی 1952 کے امیگریشن قانون کے تحت کی جا رہی ہے، جس میں حکومت کو اجازت ہے کہ وہ کسی بھی فرد کو ملک بدر کر سکتی ہے اگر اس کی موجودگی امریکی خارجہ پالیسی کے لیے "منفی نتائج" کا باعث بنے۔

اہل خانہ کی اذیت ناک کہانی

محمود کی اہلیہ نور عبداللہ نے حال ہی میں ایک بیٹے کو جنم دیا ہے۔ مگر ICE نے محمود کو بیٹے کی پیدائش کے موقع پر عارضی رہائی دینے سے انکار کر دیا۔ نور نے کہا کہ"یہ ICE کا جان بوجھ کر کیا گیا فیصلہ تھا تاکہ مجھے، محمود کو اور ہمارے بیٹے کو تکلیف دی جا سکے۔"

رمیسا، جو ترک شہری ہیں، 25 مارچ کو بوسٹن میں رمضان کے افطار پر جاتے ہوئے گرفتار ہوئیں۔ انہیں ماسک پہنے ہوئے plain-clothes اہلکاروں نے بغیر نمبر کی گاڑی میں لے جا کر حراست میں لیا۔ اب عدالت نے حکم دیا ہے کہ انہیں یکم مئی تک واپس ورمونٹ کے حراستی مرکز منتقل کیا جائے اور 9 مئی کو ان کی ضمانت کی سماعت ہوگی۔

قانونی ٹیموں کا الزام: "سیاسی انتقام"

دونوں طلبا کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ لوزیانا کی جیل میں منتقلی کا مقصد انہیں ان کے گھروں سے دور رکھنا اور ایسے حلقۂ عدالت میں لے جانا ہے جہاں حکومت کو زیادہ سازگار فیصلوں کی امید ہو۔

ڈیموکریٹ اراکین نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے لوگوں کو ان کےگھروں سے دور لے جا رہی ہے اور "ایسی عدالتیں چن رہی ہے جو وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں کے زیادہ حق میں ہوں"۔

بیان میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم اور ICE کے قائم مقام ڈائریکٹر ٹوڈ لائنز سے سوالات کے جوابات مانگے گئے ہیں۔

Watch Live Public News