ویب ڈیسک: او ایچ سی ایچ آر کی خصوصی طریقہ کار برانچ کی جانب سے 9 اپریل 2026 کو بھارت کے نام جاری کردہ مشترکہ مراسلہ، بھارت کے عدالتی اور تفتیشی نظام پر ایک سخت سوالیہ نشان ہے، جو طویل حراست، مبینہ تشدد، من مانی قید اور مسلسل بدسلوکی کی نہایت تشویش ناک تصویر پیش کرتا ہے۔
بھارت آج مسٹر جگتار سنگھ جوہل کے معاملے میں ایک سنگین بین الاقوامی الزام نامے کے سامنے کھڑا ہے، جو ایک برطانوی شہری، سکھ انسانی حقوق کے محافظ اور آن لائن کارکن ہیں، اور نومبر 2017 سے بھارت میں زیرِ حراست ہیں۔
مسٹر جوہل، جو 9 فروری 1987 کو پیدا ہوئے، بھارت میں سکھوں کے حقوق کے لیے اپنی انسانی حقوق کی سرگرمیوں کے باعث معروف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کی سرگرمیوں کا مقصد ان افراد کی آواز کو دنیا تک پہنچانا تھا جنہیں مبینہ طور پر بھارتی حکام نے مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ بھارت نے اس جائز انسانی حقوقی آواز کو برداشت کرنے کے بجائے، اسے دبانے، مجرمانہ رنگ دینے اور طویل حراست کے ذریعے خاموش کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
4 نومبر 2017 کو، جالندھر، پنجاب میں اپنی شادی کے فوراً بعد، مسٹر جوہل کو مبینہ طور پر راما منڈی میں نامعلوم افراد نے اغوا کیا۔ 4 سے 7 نومبر 2017 کے درمیان، اطلاعات کے مطابق پولیس نے ان سے تفتیش کے نام پر بدترین تشدد کیا، جس میں کانوں، نپلوں اور اعضائے تناسل پر بجلی کے جھٹکے، تکلیف دہ حالتوں میں باندھنا، نیند سے محروم رکھنا، اور گولی مارنے و زندہ جلانے کی دھمکیاں شامل تھیں۔
ان کے سیل میں پیٹرول لانے کا مبینہ واقعہ بھارت کے نظامِ انصاف کے چہرے پر ایک سیاہ دھبہ ہے، جو ایسی سفاکی کو ظاہر کرتا ہے جس کی کسی مہذب ریاست میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ یہ الزامات معمولی قانونی بے ضابطگیاں نہیں، بلکہ ریاستی جبر، غیر قانونی طاقت کے استعمال اور انسانی وقار کی پامالی کے سنگین اشارے ہیں۔ اس کے بعد بھارت نے مسٹر جوہل کو قومی تحقیقاتی ایجنسی کے ذریعے نو فوجداری مقدمات میں الجھا دیا، جو سب ایک ہی مبینہ سازش سے منسلک تھے، جس میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ اور افراد کی بھرتی، بشمول 2016 اور 2017 کے درمیان پنجاب میں مذہبی اور سیاسی رہنماؤں اور تنظیموں پر حملے، شامل تھے۔ مگر سات سال سے زائد عرصے کے بعد، ان مقدمات میں سے پہلا مقدمہ 4 مارچ 2025 کو تمام الزامات سے ان کی بریت پر ختم ہوا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ سات سال سے زائد تیاری کے باوجود مسٹر جوہل کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ یہ بریت بھارت کے لیے معمولی عدالتی شکست نہیں، بلکہ اس پورے مقدماتی ڈھانچے کی رسوائی ہے جس نے ایک انسان کی زندگی کے قیمتی سال قید میں ضائع کیے۔
بھارت قومی سلامتی کے نعرے کے پیچھے چھپ کر اس حقیقت سے نہیں بھاگ سکتا کہ برسوں پر محیط مقدمہ قابلِ اعتماد شواہد نہ ہونے کے باعث زمین بوس ہو گیا۔ یہ بریت صرف کمزور استغاثہ کو بے نقاب نہیں کرتی، بلکہ مسٹر جوہل کے خلاف پوری کارروائی کی بنیاد کو مشکوک بناتی ہے۔
یہ معاملہ تفتیشی، استغاثہ جاتی اور عدالتی معیار کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، جس میں مبینہ تشدد، جبری اعترافات، طویل قانونی کارروائی اور آزادی سے من مانے طور پر محرومی جیسے سنگین خدشات شامل ہیں۔
ایسی استغاثہ جاتی ناکامی کے باوجود مسٹر جوہل کی مسلسل حراست بھارت سے ایک سخت سوال کرتی ہے: کیا بھارت انصاف کر رہا ہے، یا ایک سکھ انسانی حقوق کے محافظ کو خاموش کرنے کی سزا دے رہا ہے؟
پہلے مقدمے میں بریت کے بعد بھی، اطلاعات کے مطابق مسٹر جوہل کی حالت مزید خراب ہوئی۔
20 مارچ 2025 کو انہوں نے اپنے خاندان کو بتایا کہ انہیں تنہائی کی قید میں رکھا گیا ہے، مسلسل نگرانی کا سامنا ہے، اور بار بار جارحانہ تلاشیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 18 جولائی 2025 کو ایک قونصلر ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ انہیں نہانے کے لیے پانی تک رسائی حاصل نہیں، اور خاندان سے ان کا ہفتہ وار ٹیلی فونک رابطہ کم کر کے ہر دو ہفتوں میں ایک کال تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ حالات قانونی حراست نہیں بلکہ سزا، تذلیل اور نفسیاتی دباؤ کی واضح صورت معلوم ہوتے ہیں۔