ویب ڈیسک: چیمپیئن آف ڈیموکریسی ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک امریکا میں بھی لوگوں آزادیِ اظہارِ رائے کے بنیادی حق سے محروم کیا جارہا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کے خلاف سخت مؤقف رکھنےوالے ٹی وی شوز کو حکومت کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اسی سلسلے میں سی بی ایس چینل کے نیوز شو "60 منٹ" کے پروڈیوسر اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں شو کے پروڈیوسر بل اوونس نے شو کو آزادانہ طریقے سے جاری نہ رکھ پانے کے باعث استعفی دے دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی الیکشن سے قبل شو کے پروڈیوسر پر 20 بلین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا اور الزام لگایا گیا تھا کہ الیکشن مہم کے دوران کمالا ہیرس کے ساتھ ہونے والے اس شو میں انٹرویو میں ردوبدل کیا گیا تھا جبکہ سی بی ایس نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے اپنا مؤقف دیا کہ چینل نے کمالا ہیرس کو فائدہ پہنچانے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے اور اپنے انٹرویو کا مکمل ٹرانسکرپٹ بھی جاری کر دیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے لیے عہدہ سنبھالا تو ان کے فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن کے چیئرمین برینڈن کار نے اعلان کیا کہ اسی معاملے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کئی سطحوں پر پریس کا مقابلہ کیا ہے۔ ایف سی سی متعدد میڈیا کمپنیوں کی تحقیقات کر رہی ہے، انتظامیہ وائس آف امریکا اور حکومت کے زیر انتظام چلنے والے دیگر آؤٹ لیٹس کو بند کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے انتظامیہ پر واقعات تک اپنی رسائی کم کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے کیونکہ اس نے ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق خلیج میکسیکو کا نام تبدیل نہیں کیا ہے۔