ویب ڈیسک: امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز میں تعینات امریکی افواج نے اکتیس جہازوں کا رخ تبدیل کر دیا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مرکزی کمان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری امریکی ناکہ بندی کے باعث اکتیس جہازوں کو اپنا راستہ بدلنا پڑا، جن میں سے بعض کو واپس بندرگاہوں کی طرف بھیج دیا گیا جبکہ کچھ کو قریبی سمندری حدود میں چکر لگانے پر مجبور کیا گیا۔
مرکزی کمان نے اپنے بیان میں کہا کہ جن جہازوں کا رخ موڑا گیا ان میں زیادہ تر تیل بردار جہاز شامل تھے اور تمام جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر مکمل عمل کیا۔
بیان کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اس آپریشن میں دس ہزار سے زائد امریکی فوجی، سترہ جنگی بحری جہاز اور سو سے زیادہ طیارے حصہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔
اس سے قبل امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر کارروائی کرتے ہوئے اسے اپنی تحویل میں لے لیا تھا، جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی۔ ایران نے اس اقدام کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات کو ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں، جبکہ امریکا کی جانب سے دھمکیاں اور وعدوں کی خلاف ورزی ہی بات چیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔