بائیڈن نےمزید1500سزائےموت کےمجرموں کی سزامیں کمی،39 کومکمل معافی دیدی

بائیڈن نےمزید1500سزائےموت کےمجرموں کی سزامیں کمی،39 کومکمل معافی دیدی
کیپشن: بائیڈن نےمزید1500سزائےموت کےمجرموں کی سزامیں کمی،39 کومکمل معافی دیدی

ویب ڈیسک: امریکی صدر جوبائیڈن نے جاتے جاتے مزید 1,500 سزائے موت کے مجرموں کی سزا میں کمی کردی۔ 39 قیدیوں کو مکمل معافی مل گئی۔ 

صدر جوبائیڈن نے معافی دینے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’’میں ان قاتلوں کی مذمت کرتا ہوں، ان کی گھناؤنی حرکتوں کے متاثرین کے لیے غمزدہ ہوں اور ان تمام خاندانوں کے لیے دکھ کا اظہار کرتا ہوں۔ جنہیں ناقابل تصور اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ 

انہوں نے مزید لکھا کہ اپنے ضمیر اور عوامی محافظ، سینیٹ کی عدلیہ کمیٹی کے چیئرمین، نائب صدر اور اب صدر کے طور پر اپنے تجربے کی رہنمائی میں، میں پہلے سے کہیں زیادہ اس بات پر قائل ہوں کہ ہمیں وفاقی سطح پر سزائے موت کے استعمال کو روکنا چاہیے۔ "کوئی غلطی نہ کریں’’۔

وائٹ ہاؤس کی فیکٹ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو "پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد سے روکنے کی ایک کوشش ہے جو موجودہ پالیسی اور عمل کے تحت نہیں دی جائیں گی۔"

یاد رہے یہ فیصلہ کچھ قابل ذکر شخصیات اور بہت سے کارکنوں کی جانب سے بائیڈن سے کارروائی کرنے کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جبکہ  پوپ فرانسس نے اکتوبر میں اپنے خطاب کے دوران موت کی سزا پانے والے امریکیوں کی سزاؤں کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

130 سے زیادہ شہری اور انسانی حقوق کے گروپوں نے دسمبر کے اوائل میں صدر کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ "وفاقی سزائے موت کے تمام افراد" کی سزاؤں کو کم کریں۔

 یادرہے سزائے موت کے وفاقی قیدیوں میں سے 38 فیصد سیاہ فام ہیں جبکہ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سیاہ فام کل امریکی آبادی کا 14 فیصد ہے۔ سزائے موت کے معلوماتی مرکز کے مطابق، وفاقی سزائے موت کے 40 مردوں میں سے تقریباً 56 فیصد  سیاہ فام مرد تھے۔

صدر بائیڈن نے 37 سزائے موت کے قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے کے تحت، جن قیدیوں کی سزائیں کم کی گئی ہیں، انہیں اب سزائے موت نہیں دی جائے گی بلکہ ان کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دی جائے گی۔40 قیدیوں میں سے تین کے علاوہ باقی 37 قیدیوں میں کمی کی گئی ہے،، زوخار سارنیف،، رابرٹ بوورز،، بوسٹن میراتھن یہ تینوں نسلی فسادات جیسے فسادات میں ملوث ہیں۔

Watch Live Public News