مسلم خاتون کا حجاب اتارنے کا معاملہ، پنجاب اسمبلی میں نتیش کمار کیخلاف قرارداد منظور

مسلم خاتون کا حجاب اتارنے کا معاملہ، پنجاب اسمبلی میں نتیش کمار کیخلاف قرارداد منظور

ویب ڈیسک:بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے خاتون ڈاکٹر کا نقاب اتارنے سے متعلق قرارداد پنجاب اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور ، قرارداد اپوزیشن رکن ندیم قریشی نے ایوان میں پیش کی۔ 

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ ریاست بہار میں پیش آنے والے شرمناک واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

بھارت میں ایک سرکاری تقریب کے دوران بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے اخلاقیات اور انسانیت کی تمام حد عبور کرتے ہوئے ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کے حجاب کو زبردستی کھینچ کر اتارنے کی ناپاک جسارت کی۔

یہ عمل انسانی وقار مذہبی آزادی اور خواتین کے بنیادی حقوق کی کھلی توہین ہے، کسی مہذب ریاست میں حکمرانوں کا ایسا طرز عمل ہر گز قابل قبول نہیں یہ اقلیتوں کے خلاف معتصبانہ اور آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور آئینی تحفظ حاصل ہے،سینیٹ قومی و صوبائی اسمبلی قب میں ان کےلیے نشستیں مختص ہیں اور ریاستی اداروں سرکاری ملازمتوں اور قومی دھارے میں غیر مسلم اقلیتوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جاتاہے۔

پاکستان غیر مسلم اقلیتوں کے احترام اور مذہب آزادی کی تابندہ مثال ہے،بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی توہین آمیز اور غیر مہذب رویہ جج صرف جمہوری اقدار  کی نفی ہے بلکہ عالمی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

یہ ایوان وفاقی حکومت کی وساطت سے اقوام متحدہ ہیومین رائٹس کونسل اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے اس نوعیت کے واقعات کا فوری نوٹس لے اور مذہبی آزادی خواتین کے حقوق اور انسانی وقار کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں ۔

Watch Live Public News