اجتماعی ملک بدری کی تیاریاں۔۔غیرقانونی تارکین وطن کوحراست میں لینےکا بل منظور

اجتماعی ملک بدری کی تیاریاں۔۔غیرقانونی تارکین وطن کوحراست میں لینےکا بل منظور
کیپشن: اجتماعی ملک بدری کی تیاریاں۔۔غیرقانونی تارکین وطن کوحراست میں لینےکا بل منظور

ویب ڈیسک : اجتماعی ملک بدری کی تیاریاں ۔۔۔۔۔۔۔امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے غیرقانونی تارکینِ وطن کو حراست میں لینے کے بل کی منظوری دے دی ۔ میکسیکو بارڈر پر ہیلی کاپٹرز کا  گشت ، دوہزار فوجی تعینات کردئیے ۔ 5 ہزار گرفتارغیر قانونی تارکین وطن کو فوجی طیاروں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔

 رپورٹ کے مطابق بل ایوان میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا تو 263 ارکان نے اس کے حق میں جب کہ 156 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ بل کی حمایت کرنے والوں میں 46 ارکان کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا۔

ایوانِ نمائندگان سے غیرقانونی تارکینِ وطن کو حراست میں لینے کے بل کی منظوری کے بعد اب اسے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

سینیٹ سے بل کی منظوری کی صورت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ہونے والی یہ پہلی قانون سازی ہو گی۔

صدر ٹرمپ میکسیکو سے تارکینِ وطن کی امریکا آمد روکنے کے لیے سرحد کو سیل کرنے سمیت مستقل قانونی حیثیت کے بغیر مقیم تارکینِ وطن کو بے دخل کرنے سے متعلق کئی ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کر چکے ہیں جب کہ صدر ٹرمپ پناہ گزینوں کی ری سیٹلمنٹ بھی منسوخ کر چکے ہیں۔

ری پبلکن سینیٹر کیٹی برٹ کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے کئی دہائیوں سے ملک کے اندر اور سرحدی مسائل کے حل پراتفاق تقریباً ناممکن رہا ہے۔

انہوں نے غیرقانونی تارکینِ وطن سے متعلق قانون سازی کو انتہائی اہم امیگریشن انفورسمنٹ بل قرار دیا اور کہا کہ کانگریس سے تقریباً تین دہائیوں بعد اس کی منظوری ہو گی۔

امریکا میں کتنے غیر ملکی تارکین  وطن ہیں؟

پیو ریسرچ سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق 2022 تک امریکہ میں غیرقانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کی تعداد لگ بھگ ایک کروڑ دس لاکھ تھی۔

تاہم ماہرین کا اندازہ  ایک سے ڈیڑھ کروڑ ہے، ان میں 40 لاکھ کا تعلق میکسیکو ، 7.5 لاکھ کا ایل سلواڈور اور 7.25 لاکھ کا بھارت سے ہے۔ غیرقانونی تارکین وطن میں  زیادہ تعداد بھارتی شہریوں کی ہے پاکستانیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔غیر قانونی بھارتیوں میں 20 ہزار  پہلے سے حراستی مراکز میں ہیں جنہیں جلد بھارت منتقل کیا جائے گا۔

ادھر مودی حکومت اس حوالے سے ٹرمپ کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہو سکی، ان کی گرفتاری کیلئے سرکاری ایجنٹوں کو چرچ، سکول، ہسپتال سمیت ہر جگہ چھاپے مارنے کی اجازت مل گئی۔

 دوسری طرف پینٹاگون نے میکسیکو کے ساتھ امریکی بارڈر پر مزید 15 سو امریکی فوجی تعینات کردئیے ہیں جو CBP ایجنٹوں کو غیر قانونی کراسنگ کے اضافے سے نمٹنے میں مدد دیں گے، یادرہے 22 سو فوجی پہلے سے ہی اس بارڈر پر تعینات ہیں  لیکن وہ زیادہ تر لاجسٹکس اور ڈیٹا انٹری اور مانیٹرنگ جیسے کاموں میں مدد دے رہے ہیں۔

قائم مقام سیکرٹری دفاع رابرٹ سیلسیس نے کہا کہ پینٹاگون  میسکیکو بارڈ پر انٹیلی جنس عملے سے لیس ہیلی کاپٹر تعینات کردئیے ہیں  جبکہ پینٹاگون "سان ڈیاگو، کیلیفورنیا، اور ایل پاسو، ٹیکساس، کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن  میں  زیر حراست 5 ہزار سے زائد غیر قانونی   تارکین وطن کی ملک بدری کی پروازوں کیلئے فوجی ہوائی جہاز بھی فراہم کرے گا۔" "یہ صرف شروعات ہے،" ۔

 یادرہے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق  ٹرمپ میکسیکو کی سرحد پر تقریباً 10 ہزار امریکی  فوجی  تعینات کرنا چاہتے ہیں۔

Watch Live Public News