ہتک عزت کیس:بھگوڑےعادل راجہ کو برطانوی عدالت میں ہزیمت کا سامنا

ہتک عزت کیس:بھگوڑےعادل راجہ کو برطانوی عدالت میں ہزیمت کا سامنا
کیپشن: ہتک عزت کیس:بھگوڑےعادل راجہ کو برطانوی عدالت میں ہزیمت کا سامنا

ویب ڈیسک: برطانوی ہائی کورٹ میں جاری ہتکِ عزت مقدمے کے دوران سابق بریگیڈیئر راشد نصیر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور فوج کا ملک میں اغوا اور تشدد جیسے الزامات سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بیان انہوں نے سابق فوجی افسر میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف مقدمے میں بطور گواہ دیا۔ ٹرائل کے دوسرے روز دونوں فریقین کے وکلا، بیرسٹر سائمن ہارڈنگ اور ڈیوڈ لیمر نے راشد نصیر سے سخت جرح کی۔

عادل راجہ پر الزام ہے کہ انہوں نے راشد نصیر پر صحافی ارشد شریف کے قتل اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے سے متعلق بے بنیاد دعوے کیے تھے، جنہیں راشد نصیر نے جھوٹ اور بہتان قرار دیا۔

عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے والے عادل راجہ نے کہا کہ وہ کئی فوجی آپریشنز کا حصہ رہ چکے ہیں اور ان کے ذرائع آج بھی پاکستانی اداروں میں موجود ہیں۔

تاہم، لندن ہائی کورٹ کے جج رچرڈ سپیئرمین نے واضح کیا کہ یہ کیس صرف راشد نصیر کی ساکھ سے متعلق ہے اور عدالت اسے پاکستان کی سیاست یا فوجی اداروں کے کردار پر بحث کا ذریعہ نہیں بننے دے گی۔

مزید برآں، عدالتی کارروائی کے دوران عادل راجہ کے وکیل نے تسلیم کیا کہ ان کے مؤکل کے پاس اپنے دعووں کے حق میں "سچائی پر مبنی دفاع" موجود نہیں، جس پر عادل راجہ نے یہ دفاع واپس لے لیا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ راشد نصیر کے خلاف الزامات کو ثابت نہیں کر سکتے۔

Watch Live Public News