ویب ڈیسک: بھارت میں مودی سرکار کے دور میں خواتین کے خلاف جرائم، خاص طور پر طاقتور سیاسی شخصیات کی جانب سے جنسی زیادتی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بی جے پی کا "بیٹی پڑھاؤ" نعرہ صرف سیاسی مفاد تک محدود،بھارت میں بیٹیاں طاقتور افراد کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے لگیں،مودی کے دور اقتدار میں طاقتور افراد کو سرکاری سرپرستی حاصل ہونے کے باعث خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوگیا۔بی جے پی کی حکمرانی میں خواتین کے تحفظ کے دعوے صرف نعروں تک محدود ہوگئے، نام نہاد ثقافت کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کے اپنے لیڈران خواتین کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق بی جے پی ایم ایل اے پربھُو چوہان کے بیٹے پرتیک چوہان کے خلاف کرناٹکا میں جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کرلیاگیا،ایف آئی آر مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ خاتون کی شکایت پر درج کی گئی ،پرتیک چوہان نے25 دسمبر 2023 سے 27 مارچ 2024 کے درمیان متعدد بار خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا،متاثرہ خاتون نے کہا کہ بارہا مطالبات کے باوجود کوئی شادی کی تاریخ مقرر نہ کی گئی بلکہ مزید زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق پرتیک چوہان نے متاثرہ خاتون کو خودکشی پر مجبور بھی کیا اور پھر خود اس کے بازو پر بلیڈ سے گہرا زخم لگایا۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق 2019 سے 2025 کے درمیان بھارت کے 151 موجودہ ایم پیز اور ایم ایل ایز کے خلاف خواتین سے متعلق جرائم کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
بھارتی تنظیم برائے جمہوری اصلاحات (اے ڈی آر) کے مطابق خواتین سے متعلق مقدمات میں سب سے زیادہ تعداد میں بی جے پی کے 54 ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ پیش ہو چکے ہیں،ان میں سے 16 ارکان (2 ایم پیز اور 14 ایم ایل ایز) کے خلاف خواتین سے جنسی زیادتی کے الزامات ہیں۔
اس سے قبل بھی بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی کے متعدد سابق وزراء جنسی زیادتی کے الزامات کا سامناکر چکے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق سابق بی جے پی ایم ایل اے کلدیپ سنگھ کونابالغ لڑکی سے ریپ کے جرم میں 2019 میں عمر قید کی سزا ہوئی۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بی جے پی ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ پر متعدد خواتین نے جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے،سابق بی جے پی ایم ایل اے اُمیس اگروال پر 2015 میں خاتون کو نشہ دے کر زیادتی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق سابق بی جے پی وزیر نہال چند میگھوال پر 2011 میں ریپ میں معاونت کا الزام تھا۔
بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو سرکاری تحفظ فراہم کرنا مودی سرکار کا وطیرہ ہے،بھارت میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے کیسز مودی کی نااہل حکومت اور عدم انصاف کے عکاس ہیں۔