ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
امریکی افواج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں اور بحیرۂ احمر میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی تیل کی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔
تازہ کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.97 فیصد، یعنی تقریباً 1.93 ڈالر فی بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اس سے قبل گزشتہ کاروباری روز بھی برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3 ڈالر سے زائد اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد یہ 94.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی۔
دوسری جانب امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی 1.46 فیصد، یعنی تقریباً 1.44 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 88 ڈالر سے زائد کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ بدھ کے روز بھی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
معاشی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خام تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو توانائی کی عالمی منڈی اور درآمدی معیشتوں پر اس کے مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔