ویب ڈیسک: مودی سرکار نے تعلیم دشمنی کرتے ہوئے غریب بچوں کا مستقبل تاریک کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق مودی سرکار بیشتر اسکول بند کر کے غریب بھارتی بچوں کے خواب چھینے لگے،اتر پردیش میں سکولز بی جے پی حکومت کے نشانے پر، پانچ ہزار سے زائد سرکاری اسکول بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی سرکار پانچ ہزار سے زائد سکول بند کرنے جارہی ہے۔
این ڈی ٹی وی نیوز کے مطابق بی جے پی نے بڑی تعداد میں آٹھویں جماعت تک کے سرکاری سکولوں بند کرنے کے احکامات جاری کر دئیے،بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ تعلیم بہتر بنانے کے لیے ہے مگر اسکی حقیقت کچھ اور ہے۔
تعلیم کے محافظوں نے اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا۔
اپوزیشن لیڈران کا کہناہے کہ تعلیم کا حق ہر بچے کو حاصل ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا،بی جے پی جماعت بچوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہے، انہیں تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے۔
این ڈی ٹی وی نیوز کے مطابق اپوزیشن جماعتوں اور تعلیمی اداروں کی جانب سے بی جے پی کو فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ،بی جے پی حکومت کو چیلنج کیا گیا کہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔
ٹائم آف انڈیا کے مطابق اس سے قبل 14 نومبر 2024 کو یوگی حکومت نے 27 ہزار اسکول بند کرنے کی تیاری کی۔
انڈیا ٹی وی نیوز کے مطابق اتر پردیش میں اس وقت 27670 بنیادی اسکول موجود ہیں جن میں سے متعدد کو بند کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ٹائم آف انڈیا کے مطابق اس سے قبل جھارکھنڈ میں مودی سرکار نے 5 ہزار دیہی اسکول بند کر کے دلت ذات بچوں سے تعلیم چھین لی۔
تعلیم دشمن فیصلوں سے بی جے پی نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف امیروں کی پارٹی ہے نہ کہ غریب بچوں کی امید۔