ویب ڈیسک: ایران نے اسرائیل پر ایک بار پھر حملہ کیا تو پہلی بار یہ دعویٰ کیا کہ اس حملے میں ایرانی سجیل ٹو میزائل استعمال کیا گیا ہے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا رات گئے یہ حملے ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کے تحت کیے گئے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’آپریشن وعدہ صادق 3 کی 12ویں انتقامی کارروائی بہت بھاری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے دو مرحلوں والے سجیل میزائل سے شروع کی گئی ہے۔‘
بیان میں اس میزائل کی خصوصیات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے سجیل ایران کے سب سے طاقتور اور اہدف کو درست نشانہ بنانے والے سٹریٹجک ہتھیاروں میں سے ایک ہے جو دشمن کے اہم اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سجیل ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جو دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس رینج کے ساتھ یہ میزائل ایران سے پورے مشرق وسطیٰ بشمول اسرائیل، جنوب مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا کے کچھ حصوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اگر اسے ایران کے شہر نطنز سے داغا جائے تو یہ صرف سات منٹ میں اسرائیلی شہر تل ابیب تک پہنچ سکتا ہے ۔
سجیل میزائل لگ بھگ 18 میٹر لمبا ہے اور ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے۔ اس وجہ سے اسے دیگر قسم کے ایندھن استعمال کرنے والے میزائلوں کے مقابلے میں برتری ملتی ہے۔
ٹھوس ایندھن کے استعمال کی وجہ سے اسے لانچ کے لیے تیزی سے تیار کیا جا سکتا ہے، اس میں دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے کی بہتر صلاحیت ہے اور یہ لڑائی کے دوران زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ میزائل تقریباً 700 کلوگرام وزنی وار ہیڈ لے جا سکتا ہے اور اس کی بدولت اپنے اہداف کے خلاف کافی تباہ کن صلاحیت رکھتا ہے۔
اس میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ 2008 میں کیا گیا اور اس تجربے میں اس نے 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا، اس کا دوسرا تجربہ مئی 2009 میں ہوا جس میں جدید ٹیکنالوجی اور نیوی گیشن سسٹم کی جانچ کی گئی۔
امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے مطابق، ’ سجیل میزائل کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں۔ 2009 میں ایران نے سجیل 2 نامی میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ ایک غیر مصدقہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سجیل 3 اس سے بھی بہتر ہوسکتا ہے۔ سجیل 3 تین مرحلوں والا میزائل ہے جس کی زیادہ سے زیادہ رینج چار ہزار کلومیٹر اور اس کا وزن 38 ہزار کلوگرام ہے۔