ہر فارمیٹ کیلئے الگ ٹیمیں بنانا ناگزیر، نیا سینٹرل کنٹریکٹ اسی سمت پہلا قدم ہے: عاقب جاوید

ہر فارمیٹ کیلئے الگ ٹیمیں بنانا ناگزیر، نیا سینٹرل کنٹریکٹ اسی سمت پہلا قدم ہے: عاقب جاوید
کیپشن: ہر فارمیٹ کیلئے الگ ٹیمیں بنانا ناگزیر، نیا سینٹرل کنٹریکٹ اسی سمت پہلا قدم ہے: عاقب جاوید

ویب ڈیسک: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے کہا ہے کہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ ماڈل کا مقصد کھلاڑیوں کو فارمیٹ کے مطابق تقسیم کرنا ہے اور مستقبل میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے لیے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی جا سکتی ہیں۔

عاقب جاوید کے مطابق ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی ضروریات یکسر مختلف ہیں، اس لیے دونوں فارمیٹس کو ایک ہی انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کی علیحدہ شناخت ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں مختلف فارمیٹس کے کھلاڑیوں کا ایک ہی پیمانے پر موازنہ کیا جاتا تھا، جس سے بعض کرکٹرز کے ساتھ ناانصافی ہوتی تھی۔ نئے نظام کے تحت ہر کھلاڑی کی کارکردگی کا جائزہ اسی فارمیٹ کے مطابق لیا جائے گا جس میں وہ کھیلتا ہے اور معاوضہ بھی اسی بنیاد پر مقرر ہوگا۔

عاقب جاوید نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کے بہترین پرفارمرز کو ماہانہ 40 لاکھ روپے تک معاوضہ ملے گا، جبکہ دیگر کھلاڑیوں کو کارکردگی کے مطابق 30 سے 35 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ اعلیٰ کیٹیگریز میں معاوضہ 48 لاکھ روپے ماہانہ تک جا سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مختلف کیٹیگریز کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں مخصوص معیار مقرر کیے گئے ہیں۔ ٹیسٹ کیٹیگری کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا لازمی ہوگا، جبکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کیٹیگریز کے لیے بھی متعلقہ فارمیٹس میں مطلوبہ تعداد میں میچز کھیلنا ضروری ہوں گے۔

ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس کا کہنا تھا کہ سینٹرل کنٹریکٹ کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں میں کمٹمنٹ پیدا کرنا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کے ساتھ ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی باقاعدگی سے حصہ لیں۔ مقررہ معیار پورا نہ کرنے والے کھلاڑیوں کا کنٹریکٹ معطل کیا جا سکتا ہے۔

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کو مضبوط بنانے کے لیے کھلاڑیوں کو اپنے مخصوص فارمیٹ پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق ایک کھلاڑی طویل عرصہ صرف ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے بعد اچانک ٹیسٹ کرکٹ میں کامیاب نہیں ہو سکتا، اس لیے فارمیٹ اسپیشلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی کیٹیگری کو خصوصی اہمیت دی جائے گی، جس میں 16 سے 20 ابھرتے ہوئے کھلاڑی شامل ہوں گے اور انہیں ابتدا ہی سے مخصوص فارمیٹس کے مطابق تیار کیا جائے گا۔

عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ اگرچہ کھلاڑیوں کو فارمیٹ کی بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا ہے، تاہم قومی ٹیم کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی فارمیٹ کا کھلاڑی دوسرے فارمیٹ میں بھی منتخب کیا جا سکے گا۔

Watch Live Public News