ویب ڈیسک: ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو غیر ملکی طلباء کے داخلے کا اختیار ختم کر دیا ہے، جو کہ آئیوی لیگ کی اس یونیورسٹی کی خودمختاری کے خلاف ایک نئی اور سخت پیش رفت ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ’ ہارورڈ اب مزید غیر ملکی طلباء کو داخلہ نہیں دے سکتا اور موجودہ غیر ملکی طلباء کو یا تو دوسری جگہ منتقل ہونا ہوگا یا اپنی قانونی حیثیت سے محروم ہو جانا ہوگا۔"
ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے محکمہ کو ہدایت دی ہے کہ ہارورڈ کی "اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام" (SEVP) کی سرٹیفکیشن ختم کر دی جائے۔ یہ اقدام ان کی جانب سے گزشتہ ماہ دی گئی اس دھمکی پر عمل درآمد ہے، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہارورڈ 30 اپریل تک بین الاقوامی طلباء کی "غیر قانونی اور پرتشدد سرگرمیوں" کی مکمل تفصیلات فراہم کرے، بصورت دیگر ادارہ اپنی سرٹیفکیشن کھو دے گا۔
یہ فیصلہ ہارورڈ کے طلباء کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کر سکتا ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق اس کی بین الاقوامی تعلیمی برادری میں 9,970 افراد شامل ہیں، جب کہ تعلیمی سال 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق 6,793 بین الاقوامی طلباء کل اندراج کا 27.2 فیصد حصہ بنتے ہیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی نے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے "غیر قانونی" قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے’ ہم ہارورڈ کی اس صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں کہ وہ دنیا کے 140 سے زائد ممالک سے آنے والے بین الاقوامی طلباء اور اسکالرز کی میزبانی کر سکے، جو ہماری یونیورسٹی اور قوم کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہیں۔"
یہ فیصلہ نہ صرف ہارورڈ بلکہ امریکی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں غیر ملکی طلباء کے کردار پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جو تعلیمی معیار، مالی آمدن، اور ثقافتی تنوع کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔