ویب ڈیسک: سعودی عرب میں اعلیٰ ترین مذہبی منصب پر تقرری عمل میں آگئی ہے، جس کے تحت خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تجویز پر شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان کو سعودی عرب کا نیا مفتی اعظم مقرر کردیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ تقرری شاہی فرمان کے ذریعے عمل میں لائی گئی، جس کے بعد ملک میں مذہبی رہنمائی کے لیے ایک نئی قیادت سامنے آگئی ہے۔
شاہی حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ شیخ ڈاکٹر صالح الفوزان کو نہ صرف مفتی اعظم کا منصب دیا گیا ہے بلکہ انہیں سینئر علماء کونسل کا چیئرمین اور جنرل پریزیڈنسی آف سائنٹیفک ریسرچ اینڈ افتاء کا سربراہ بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ان عہدوں کے ساتھ وہ ملک بھر میں دینی امور کی نگرانی، شرعی تشریحات، فتووں کی تصدیق اور عوامی و سرکاری سطح پر مذہبی رہنمائی کے بنیادی ذمہ دار ہوں گے۔
شیخ صالح الفوزان سعودی عرب کے معروف عالم دین سمجھے جاتے ہیں اور طویل عرصے تک سینئر علماء کونسل کے رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں فقہ، تفسیر، حدیث اور اسلامی قانون میں گہری مہارت حاصل ہے، جبکہ ان کے متعدد دینی دروس اور تصنیفات عرب و اسلامی دنیا میں معتبر مقام رکھتی ہیں۔ ان کی شخصیت کا شمار سعودی عرب کے ایسے علماء میں ہوتا ہے جنہیں اعتدال پسندی اور مضبوط شرعی استدلال کے باعث عوامی سطح پر بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ 23 ستمبر 2025 کو انتقال کر گئے تھے۔ وہ 1999 سے اس منصب پر فائز تھے اور تقریباً 26 برس تک ملک کے اعلیٰ ترین مذہبی رہنما کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ شیخ عبدالعزیز نے اپنے دور میں اسلامی شریعت کی روشنی میں معاشرتی، سماجی اور قانونی امور پر بے شمار فتوے جاری کیے، جب کہ انہیں عالم اسلام کے نمایاں مفتیان میں شمار کیا جاتا تھا۔
نئے مفتی اعظم کی تقرری کو سعودی عرب میں مذہبی اداروں کی قیادت کی مضبوطی اور شرعی رہنمائی کے تسلسل کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔