ویب ڈیسک: دبئی میں 18 سالہ بھارتی طالبعلم کی موت کے بعد ڈاکٹروں کی وارننگ ، نوجوانوں میں پوشیدہ دل کے امراض پر تشویش کا اظہار کردیا۔
دبئی میں دیوالی کی تقریب کے دوران 18 سالہ بھارتی طالبعلم ویشنَو کرشن کمار کی اچانک موت ہوگئی،جس پر ماہرینِ صحت نے نوجوانوں میں دل کے پوشیدہ امراض پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ویشنَو منگل کی رات اچانک گر پڑا جس کو فوراً منتقل کیا گیا، ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی موت واقع ہوچکی ہے، دل کا دورہ پڑنے سےویشنَو جان کی بازی ہار گیا۔

ساتھی طلبہ کا کہنا تھا کہ ویشنَو بظاہر بالکل صحت مند تھا اور انہیں کسی بیماری کی شکایت نہیں تھی۔
ویشنَو کے دوستوں اور اساتذہ نے بتایا کہ وہ فٹنس کے شوقین تھے، جم جاتے تھے، اور دوسروں کو بھی صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کی موت نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے کہ بظاہر تندرست نوجوانوں میں بھی دل کے مسائل بغیر کسی علامت کے موجود ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ نوجوانوں میں دل کا دورہ نایاب سمجھا جاتا ہے، لیکن بعض اوقات پوشیدہ یا لاعلمی میں رہنے والے امراض اچانک جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے والدین اور سکول انتظامیہ کر ہدایت کی کہ وہ کھیلوں یا جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے طلبہ کا دل کا ابتدائی معائنہ (کارڈیک اسکریننگ) ضرور کروائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی اموات سے بچاؤ کے لیے باقاعدہ طبی چیک اپ اور ابتدائی علامات پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔
برجیل میڈیکل سینٹر، الشامخہ میں ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر بسما محمد علی النجر کا کہنا تھا کہ اکثر ایسے کیسز ان پوشیدہ بیماریوں سے جڑے ہوتے ہیں جن کا بروقت پتا نہیں چل پاتا۔
اکثر اوقات یہ مسئلہ اریتھمیا (دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی) کی وجہ سے ہوتا ہے، بعض کیسز میں کارڈیو مایوپیتھی (دل کے پٹھوں کی بیماری)، خاص طور پر ہائپر ٹرافک آبسٹرکٹیو کارڈیو مایوپیتھی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔