روشنیوں کا تہوار اندھیرے میں بدل گیا، 14 بچے بینائی سے محروم، 122 زخمی

روشنیوں کا تہوار اندھیرے میں بدل گیا، 14 بچے بینائی سے محروم، 122 زخمی

ویب ڈیسک: بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں دیوالی کے دوران خطرناک ’’کاربائیڈ گن‘‘کا نیا ٹرینڈ بچوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، صرف تین دنوں میں 14 بچے ہمیشہ کے لیے بینائی سے محروم ہو گئے جبکہ 122 سے زائد شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچائے گئے۔

ریاست کے مختلف شہروں بھوپال، اندور، جبل پور اور گوالیار کے اسپتالوں میں زخمی بچوں کی بڑی تعداد زیرِ علاج ہے۔ صرف بھوپال کے حامدیہ اسپتال میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 26 بچے داخل کیے گئے۔
ڈاکٹر منیش شرما، چیف میڈیکل ہیلتھ آفیسر، حامدیہ اسپتال نے بتایا’’ ہم نے ایسے کئی بچوں کا علاج کیا جن کی آنکھوں کے پردے (پُتلی) پھٹ گئے۔ دھماکے کے دوران نکلنے والے میٹل کے ذرات اور کاربائیڈ کے بخارات ریٹینا کو جلا دیتے ہیں۔ یہ کوئی کھلونا نہیں بلکہ ایک خطرناک دھماکہ خیز آلہ ہے۔‘‘

کئی زخمی بچے اب بھی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرِ علاج ہیں، اور ڈاکٹروں کے مطابق بعض کی بینائی واپس آنا ممکن نہیں۔

کاربائیڈ گن کیا ہے؟
یہ’’کاربائیڈ گنز‘‘ عام طور پر پلاسٹک یا ٹن کی پائپوں سے تیار کی جاتی ہیں، جن میں گن پاؤڈر، ماچس کی تیلیاں اور کیلشیئم کاربائیڈ ڈالا جاتا ہے۔ ان میں معمولی سی چنگاری سے شدید دھماکہ ہوتا ہے، جو اکثر چہرے یا آنکھوں پر لگتا ہے۔

ریاستی حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو ایسی خطرناک سرگرمیوں سے روکیں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر محفوظ آتش بازی کی ویڈیوز کو رپورٹ کریں۔

Watch Live Public News