ویب ڈیسک: وفاقی کابینہ نے ملک کی مذہبی جماعت پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی، کابینہ منظوری کے بعد وزارت قانون و انصاف سپریم کورٹ میں پابندی کا ریفرنس دائر کرے گی۔
وزارت قانون و انصاف 15 روز میں مذہبی جماعت پر پابندی کا ریفرنس دائر کرنے کی پابند ہوگی، وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔
وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے وفاقی کابینہ کو مذہبی جماعت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، وفاقی کابینہ کو پابندی کے حوالے سے پنجاب حکومت کی سفارشات بھی پیش کی گئیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دینے کی منظوری دے دی.
پنجاب حکومت کی درخواست پر وزارت داخلہ نے سمری وفاقی کابینہ میں پیش کی گئی، وفاقی کابینہ کو ملک میں مذہبی جماعت کی پر تشدد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی.
اجلاس میں حکومت پنجاب کے اعلیٰ افسران بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔
اجلاس کو کالعدم تنظیم کی پر تشدد اور انتشار پھیلانے والی کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ 2016 سے قائم اس تنظیم نے پورے ملک میں شر انگیزی کو ہوا دی۔ تنظیم کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں شر انگیزی کے واقعات میں ہوئے۔
2021 میں بھی اس وقت کی حکومت نےتنظیم پر پابندی لگائی جو 6 ماہ بعد اس شرط پر ہٹائی گئی کہ آئندہ ملک میں بدامنی اور پر تشدد کارروائیاں نہیں کی جائیں گی۔ تنظیم پر پابندی کی وجہ 2021 میں دی گئی ضمانتوں سے روگردانی بھی ہے۔
ماضی میں بھی تنظیم کے پرتشدد احتجاجی جلسوں اور ریلیوں میں سکیورٹی اہلکار اور بے گناہ راہگیر جاں بحق ہوئے۔
وفاقی کابینہ اجلاس کو دی گئی بریفنگ اور حکومت پنجاب کی سفارش کے بعد متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچی کہ تنظیم دہشت گردی اور پر تشدد کاروائیوں میں ملوث ہے۔