(ویب ڈیسک) پنجاب بھر میں عوامی مقامات، شاہراہوں یا کھلی جگہ پر 5 یا زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھ پر مکمل پابندی عائد کردی۔محکمہ داخلہ نے 23 ستمبر سے 5 اکتوبر تک نوٹیفکیشن جاری کر دیا.
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر کے تمام عوامی مقامات، شاہراہوں یا کھلی جگہوں پر 5 یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے، جلوس، دھرنوں، ریلیوں اور عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی۔عوامی مقامات پر ہر قسم کے اسلحہ و ہتھیار ساتھ لے جانے اور ان کی کھلی نمائش پر بھی مکمل ممانعت عائد کر دی گئی ہے۔غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کیلئے اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے فوری نوعیت کے سنگین خطرات کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق کالعدم و دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، جبکہ جلسے، جلوس، ریلیاں اور مظاہرے دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف ثابت ہو سکتے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان خطرات کے تدارک کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کی درخواست کی تھی، جس پر حکومت نے عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے یہ فوری فیصلہ کیا۔
اس حکم نامے کا اطلاق نمازِ جنازہ، تدفین، شادی بیاہ کی نجی تقریبات، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا۔عدالتیں، تمام سرکاری و حکومتی ادارے اور باضابطہ قانونی اجازت کے ساتھ منعقد ہونے والی تقریبات بھی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
ڈیوٹی پر مامور پولیس، سیکیورٹی فورسز، انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی اس پابندی کا کوئی اطلاق نہیں ہوگا۔