ویب ڈیسک: چین نے صوبہ ہیبئی کی سونان کاؤنٹی میں واقع شہر شیونگ آن میں دنیا کا پہلا 10G براڈ بینڈ نیٹ ورک لانچ کر دیا ہے۔ یہ اقدام عالمی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 10G براڈ بینڈ نیٹ ورک ہواوے اور سرکاری ملکیت ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنی " چائنا یونیکوم" کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
10G براڈ بینڈ نیٹ ورک کی تفصیلات
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس نئے نیٹ ورک کے ذریعے ڈاؤن لوڈنگ اسپیڈ 9834 Mbps تک اور اپ لوڈنگ اسپیڈ 1008 Mbps تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ لیٹنسی صرف 3 ملی سیکنڈ ہوگی۔
یہ اسپیڈ چین کو متحدہ عرب امارات (UAE) اور سنگاپور جیسے ممالک سے آگے لے جا سکتی ہے، جو دنیا کی تیز ترین کمرشل براڈ بینڈ اسپیڈ فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ اسٹیٹسٹا کی رپورٹ کے مطابق، UAE میں اوسط فکسڈ براڈ بینڈ اسپیڈ 313.5 Mbps ہے، جبکہ سنگاپور میں یہ اسپیڈ 345.3 Mbps تک ہے۔
اس نیٹ ورک میں 50G پاسو آپٹیکل نیٹ ورک (PON) ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جو FTTx (فائبر ٹو دی ایکس) ٹیکنالوجی کی اگلی نسل ہے اور یہ 50 Gbps تک کی ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ اسپیڈ فراہم کر سکتی ہے، وہ بھی بغیر کسی بڑی انفراسٹرکچر تبدیلی کے۔
10G براڈ بینڈ نیٹ ورک کے ممکنہ فوائد
رپورٹ کے مطابق، اس نیٹ ورک کی بدولت صارفین ایک مکمل 4K فلم (تقریباً 20 GB سائز) کو 20 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے، جبکہ موجودہ 1 Gbps نیٹ ورکس کو یہی کام کرنے میں 7 سے 10 منٹ لگتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کا عملی فائدہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ورچوئل رئیلٹی (VR)، اور آگمینٹڈ رئیلٹی (AR) جیسے شعبوں میں زیادہ دیکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ٹیلی میڈیسن، تعلیم اور زراعت جیسے شعبوں میں بھی تیز اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کے ذریعے انقلابی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔