ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرینی صدر پر ایک مرتبہ پھر کڑی تنقید

ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرینی صدر پر ایک مرتبہ پھر کڑی تنقید
کیپشن: ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرینی صدر پر ایک مرتبہ پھر کڑی تنقید

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی، جب ٹرمپ نے کریمیا پر روسی قبضے کو تسلیم نہ کرنے پر زیلنسکی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان  یوکرین میں تین سال سے جاری جنگ کے خاتمے کو لیکر اختلافات پر کشیدگی میں اضافہ  دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یوکرینی صدر کے کریمیا کو روس کا حصہ تسلیم نہ کرنے کے بیان پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔  

دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے منگل کے روز ایک بیان میں واضح طور پر کریمیا کو کسی بھی صورت روس کے حوالے نہ کرنے  کا اعلان کیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ کریمیا ، یوکرین کا حصہ ہے اور اسے کسی صورت روس میں شامل کرنے کے متعلق  کوئی بات نہیں  ہو رہی  کیونکہ یہ ہمارے آئین کے خلاف ہے۔ جبکہ صدر ٹرمپ نے اس بیان کو شتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امن کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا: "کریمیا تو برسوں پہلے ہی کھو چکا تھا، اور یہ کوئی موضوع ہی نہیں ہونا چاہیے۔ 

یاد رہے کہ کریمیا پر 2014 میں روس نے قبضہ کر لیا تھا۔ جس کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی تھی۔

علاوہ ازیں یوکرین جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والے حالیہ مذاکرات کے متعلق صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا کی سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ شئیر کی  جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ لندن میں ہونے والی بات چیت  اور مشترکہ کوششیں ہمیں امن کی طرف لے جائیں گی  اور انہیں یقین ہے کہ یوکرین کے اتحادی، خاص طور پر امریکا، یوکرین کے مضبوط مؤقف کی حمایت کریں گے۔

 انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ 2018 کی "کریمیا ڈیکلریشن" بھی منسلک کی، جس میں اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکا کریمیا پر روسی قبضے کو تسلیم نہیں کرتا اور اس وقت تک اس پالیسی پر قائم رہے گا جب تک یوکرین کی علاقائی سالمیت بحال نہیں ہو جاتی۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یوکرین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ طے شدہ میٹنگ منسوخ کر دی اور لندن مذاکرات میں شرکت سے بھی انکار کیا۔ اس فیصلے سے واشنگٹن، کیف اور یورپی اتحادیوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر موجود اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

Watch Live Public News