ویب ڈیسک: پہلگام واقعے کے بعد بھارتی ریاستی دہشت گردی مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد آپریشن کرتے ہوئے پندرہ سو سے زائد کشمیری گرفتار کرلیے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سرینگر، اننت ناگ، کلگام، پلوامہ، شوپیاں، گندربل اور بڈگام میں چھاپے مارے گئے ۔مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی جانب سے ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری ہے۔
پہلگام حملہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی قرار، کانگریس
کانگریس نے پہلگام حملہ سکیورٹی اور انٹیلیجنس کی ناکامی قرار دے دیا۔ کانگریس نے کشمیر کی سکیورٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلگام کا علاقہ مکمل طور پرتین درجہ بندی کے سکیورٹی حصار میں ہے۔ اس کا پورا تجزیہ ہونا چاہیے کہ کہاں انٹیلیجنس کی ناکامی اور سکیورٹی کی خرابی ہوئی جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔
کانگریس کے رہنما کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ علاقہ یونین ہوم منسٹری کے زیرانتظام ہے۔ یہ سوال عوامی مفاد کی خاطر ضرور پوچھا جانا چاہیئے۔
پہلگام حملے پر سوال اٹھانے والے سینئر صحافی پر بی جےپی رہنما کا حملہ:
پہلگام حملے پر سوال اٹھانے والے سینئر صحافی پر بی جے پی رہنما نے حملہ کردیا۔یہ واقعہ کٹھوعہ جموں کے علاقے میں پیش آیا۔ سینئر صحافی حملے میں شدید زخمی ہوگیا۔ جسے اسپتال داخل کرادیا گیا ہے۔
بی جے پی نے سکیورٹی پر سوال اٹھانے والے صحافیوں پر علیحدگی پسند وں کی زبان بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔ صحافی بی جے پی کے احتجاج کی کوریج کر رہے تھے۔