سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا جنگی اقدام تصور کیا جائے گا،قومی سلامتی کمیٹی

سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا جنگی اقدام تصور کیا جائے گا،قومی سلامتی کمیٹی

(ویب ڈیسک )   قومی سلامتی کمیٹی  کی اعلامیہ کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس  کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں   پہلگام حملے پر بھارتی الزامات مسترد کردیے گئے۔    
بھارت کی آبی جارحیت پر سخت ردعمل، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی بھارتی کوشش ناقابل قبول قرار دیدی۔
 اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ  بھارت کی کسی بھی آبی یا سرحدی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،پاکستان نے بھارت کے ساتھ شملہ معاہدے سمیت تمام دوطرفہ معاہدے معطل کرنے کا فیصہ کیا ہے۔واہگہ بارڈر فوری طور پر بند، تمام بھارتی ٹرانزٹ معطل کر دیے گئے۔

اعلامیے کے مطابق سارک (SAARC)  ویزہ اسکیم کے تحت جاری بھارتی ویزے منسوخ، سوائے سکھ یاتریوں کے. بھارتی دفاعی، فضائی اور بحری مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔
    اعلامیے کے مطابق  بھارتی ہائی کمیشن کا عملہ  30 افراد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پاکستانی فضائی حدود بھارتی ایئرلائنز کے لیے فوری بند، بھارت کے ساتھ تمام تجارتی روابط معطل کردیے گئے۔
    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ  بھارت کی اشتعال انگیزیاں دو قومی نظریے کی سچائی کی دلیل ہیں، پاکستان کسی کو اپنی خودمختاری، سلامتی اور وقار پر سمجھوتہ کرنے نہیں دے گا،  بھارت کا کشمیر پر قبضہ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی ہے۔

اعلامیے کے مطابق  پہلگام واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھارت کی گھٹیا سوچ ہے،کلبھوشن یادیو بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا زندہ ثبوت ہے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں صف اول کا ملک ہے۔

Watch Live Public News