پہلگام حملے کے بعد پاکستانی شہریوں کی واپسی، بھارت کا سخت مؤقف

پہلگام حملے کے بعد پاکستانی شہریوں کی واپسی، بھارت کا سخت مؤقف

ویب ڈیسک: جنوبی کشمیر کے پہلگام علاقے میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد، جس میں 26 افراد جان کی بازی ہار گئے، بھارت نے پاکستان کے خلاف سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے پاکستانی شہریوں کی واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

خارجہ سیکرٹری وکرم مسری نے بدھ کو اعلان کیا کہ پاکستانی شہری اب ساڑک ویزا استثنیٰ اسکیم کے تحت بھارت کا سفر نہیں کر سکیں گے۔ اس فیصلے کے بعد، مرکزی حکومت کی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن کے تحت درجنوں پاکستانی شہری جمعرات کو اٹاری ,واہگہ زمینی راستے کے ذریعے وطن واپس روانہ ہوئے۔

بھارتی حکومت نے پہلگام حملے کے بعد ایک سلسلہ وار سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں پاکستانی فوجی اتاشیوں کی ملک بدری، 1960 کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا اور اٹاری انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ کی فوری بندش شامل ہے۔ بھارتی حکام نے حملے کی منصوبہ بندی میں سرحد پار روابط کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

جمعرات کی صبح، متعدد پاکستانی خاندان امرتسر کے انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ (ICP) پر پہنچے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ 15 اپریل کو دہلی آئے تھے تاکہ اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کر سکیں، لیکن اب حالات کے پیش نظر واپس جا رہے ہیں۔

ایک اور پاکستانی فیملی کا کہنا تھا کہ "ہمارا ویزا 45 دن کے لیے تھا، مگر موجودہ صورتحال کے باعث ہم وقت سے پہلے واپس جا رہے ہیں۔"

پہلگام حملے پر انہوں نے کہا "جس نے بھی یہ حرکت کی ہے وہ سراسر غلط ہے۔ ہم دونوں ملکوں کے درمیان بھائی چارہ اور امن چاہتے ہیں۔"

واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے، اور سفارتی تعلقات متاثر ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

 

Watch Live Public News