ویب ڈیسک: قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کا عمل گزشتہ سال ناکامی سے دوچار ہوا تھا، تاہم ایک سال کے اندر اصلاحاتی اقدامات، مالی خسارے میں نمایاں کمی اور حکومتی معاونت کے باعث بولی کی مالیت میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی فروخت ممکن ہو گئی۔
پی آئی اے کی نجکاری پر بات چیت 2014 سے جاری تھی، مگر یہ عمل مکمل نہ ہو سکا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں نجکاری کے لیے پہلی بولی کا انعقاد کیا گیا، جس میں صرف ایک کمپنی نے حصہ لیا اور 10 ارب روپے کی پیشکش کی۔ چونکہ نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی ریزرو قیمت 85 ارب روپے مقرر کر رکھی تھی، اس لیے بولی منسوخ کر دی گئی۔
دوسری بولی میں نمایاں اضافہ
گزشتہ روز اسلام آباد میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے دوسری مرتبہ بولی کا انعقاد ہوا، جس میں تین کمپنیوں نے حصہ لیا۔ اس مرحلے پر نجکاری کمیشن نے ریزرو قیمت 100 ارب روپے مقرر کی۔
لکی گروپ کنسورشیم نے 101 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی بولی دی۔ ایئر بلو کم بولی کی وجہ سے ابتدائی مرحلے میں ہی باہر ہو گئی۔ بعد ازاں بولی کے عمل میں مقابلہ بڑھا اور لکی گروپ نے 134 ارب روپے کی پیشکش کی، تاہم عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی دے کر پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز حاصل کر لیے۔
مالی اصلاحات اور سیلز ٹیکس میں سہولت
وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کے مطابق گزشتہ سال نجکاری کی ناکامی کی بڑی وجہ ایف بی آر کا عدم تعاون اور طیاروں کی لیز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ نہ ملنا تھا۔ اس بار نئے طیاروں کی خریداری پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ دی گئی، جس سے پی آئی اے کو لیز طیاروں پر ماہانہ تقریباً 81 لاکھ روپے کی سہولت حاصل ہو گی۔
خسارے کا خاتمہ اور منافع
گزشتہ سال پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 200 ارب روپے سے زائد تھا، جس کے باعث سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم رہی۔ اس مرتبہ تمام خسارے ختم کر دیے گئے۔ پی آئی اے نے 2024 میں 26 ارب 20 کروڑ روپے کا مجموعی منافع کمایا، جس میں 9 ارب 30 کروڑ روپے (12 فیصد) آپریٹنگ پرافٹ شامل ہے۔ یہ 2003 کے بعد پہلی بار ہے کہ پی آئی اے منافع بخش ادارہ بنا ہے۔
اصلاحاتی اقدامات اور بہتر کارکردگی
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران ادارے میں اہم اصلاحات کی گئیں۔ ورک فورس میں 30 فیصد کمی، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور منافع بخش روٹس پر فلائٹس میں اضافہ کیا گیا، جبکہ خسارے والے روٹس محدود کر دیے گئے۔ یورپ اور برطانیہ کے روٹس پی آئی اے کی مجموعی آمدنی کا 37 فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں، جو 70 سے 80 ارب روپے سے زائد بنتا ہے۔
حکومت کا کردار
حکومت نے پی آئی اے کے قرضوں کو الگ کر کے نجکاری کے عمل کو آسان بنایا۔ مجموعی منافع میں 22 فیصد حصہ اندرونِ ملک فلائٹس سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ باقی آمدنی گلف ممالک، سعودی عرب، یورپ اور ایشیا کی پروازوں سے آتی ہے۔
فلیٹ کی اپ گریڈیشن اور عملے کی منصوبہ بندی
چیف آپریٹنگ آفیسر ایئر وائس مارشل عامر حیات کے مطابق پی آئی اے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ آٹھ طیاروں کے انجن تبدیل کیے گئے، دو بڑے بوئنگ 777 طیارے جلد فلیٹ میں شامل ہوں گے اور ان طیاروں کے کارپٹ بھی تبدیل کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ 19 طیاروں کے فلیٹ کو بڑھا کر 38 کیا جائے گا۔ اس وقت ملازمین کی تعداد 6 ہزار 700 ہے، تاہم نئے جہاز شامل ہونے کے بعد عملے کی تعداد میں مزید بہتری لائی جائے گی۔ ان اقدامات نے پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور نجکاری کے کامیاب انعقاد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔