ویب ڈیسک: حکومتِ پاکستان نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس میں عارف حبیب کنسورشیم سب سے بڑی بولی دینے والا ادارہ قرار پایا۔ کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے حصول کے لیے 135 ارب روپے کی پیشکش کی، جسے حکومت نے قبول کر لیا ہے۔
عارف حبیب کنسورشیم مختلف شعبوں سے وابستہ معروف پاکستانی کمپنیوں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد پی آئی اے کو مالی اور انتظامی طور پر مستحکم کرنا ہے۔ اس کنسورشیم کی قیادت عارف حبیب گروپ کر رہا ہے، جو ملک کے نمایاں کاروباری گروپس میں شمار ہوتا ہے اور مالیاتی خدمات، کھاد، رئیل اسٹیٹ، سیمنٹ اور اسٹیل سمیت متعدد شعبوں میں سرگرم ہے۔
اسٹاک مارکیٹ سے کاروباری سفر
عارف حبیب گروپ نے اپنے کاروباری سفر کا آغاز اسٹاک مارکیٹ سے کیا اور بطور بروکریج ہاؤس نمایاں مقام حاصل کیا۔ وقت کے ساتھ یہ بروکریج پاکستان کے بڑے اداروں میں شامل ہو گیا۔ بعد ازاں گروپ نے بینکاری کے شعبے میں بھی قدم رکھا اور عارف حبیب انویسٹمنٹ بینک کے نام سے ایک انویسٹمنٹ بینک قائم کیا۔
گروپ نے فرٹیلائزر کے شعبے میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی، خصوصاً فاطمہ فرٹیلائزرز میں شراکت کے ذریعے، جو پاکستان کی بڑی کھاد بنانے والی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
ریئل اسٹیٹ میں وسعت
عارف حبیب گروپ نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں بھی اپنی موجودگی مضبوط کی اور کراچی میں نیا ناظم آباد کے نام سے ایک بڑا اور معروف ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیا۔ اس کے علاوہ گروپ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
ایوی ایشن کے شعبے میں قدم
معاشی تجزیہ کاروں کےمطابق عارف حبیب گروپ کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ اس کی مختلف شعبوں میں کامیابی سے کاروبار کو وسعت دینے کی صلاحیت ہے۔ اسٹاک مارکیٹ، رئیل اسٹیٹ، فرٹیلائزر اور سیمنٹ سمیت ہر شعبے میں گروپ نے نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔
اب گروپ نے ایوی ایشن کے شعبے میں بھی قدم رکھ دیا ہے اور ائیر کراچی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ماضی کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عارف حبیب گروپ پی آئی اے کو بھی کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
دیگر حبیب گروپس سے امتیاز
واضح رہے کہ پاکستان میں حبیب نام سے کئی بڑے کاروباری گروپس سرگرم ہیں، تاہم پی آئی اے کی نجکاری میں شامل عارف حبیب گروپ ان سے الگ اور مختلف ہے۔ مثال کے طور پر ہاؤس آف حبیب، جو انڈس موٹرز (ٹویوٹا) اور حبیب میٹروپولیٹن بینک جیسے ادارے چلاتا ہے، حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) جو اس وقت آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈویلپمنٹ کی ملکیت ہے اور حبیب رفیق گروپ جو تعمیرات اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے تاکہ عارف حبیب گروپ کو دیگر حبیب نام رکھنے والے کاروباری اداروں سے الگ پہچانا جا سکے۔