ویب ڈیسک: سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کو آنکھوں کے فالو اَپ علاج کے سلسلے میں 24 فروری 2026 کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا، جہاں انہیں اینٹی وی ای جی ایف (Anti-VEGF) کا دوسرا انٹرا وٹریل انجیکشن لگایا گیا۔
ماہر ڈاکٹروں کے بورڈ کا معائنہ
طبی ذرائع کے مطابق طریقۂ کار سے قبل عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ ماہر ڈاکٹروں کے بورڈ نے کیا، جس میں کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ اور کنسلٹنٹ فزیشن شامل تھے۔
کارڈیالوجسٹ کی جانب سے ایکوکارڈیوگرافی (Echocardiography) اور ای سی جی (ECG) بھی کی گئی، جن کی رپورٹس نارمل آئیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا۔
احتیاطی تدابیر کے تحت انجیکشن
مریض کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد انجیکشن آپریشن تھیٹر میں معیاری مانیٹرنگ اور حفاظتی پروٹوکول کے تحت لگایا گیا۔ یہ عمل کنسلٹنٹ ماہرِ امراضِ چشم اور وٹریو ریٹینل سرجن کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، جن کا تعلق پمز اور الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال سے تھا۔
یہ ایک ڈے کیئر طریقۂ علاج تھا، جس کے تحت انجیکشن کے بعد انہیں اسی روز ڈسچارج کر دیا گیا۔
حالت تسلی بخش قرار
طبی ذرائع کے مطابق عمران خان کی حالت علاج سے قبل، دورانِ علاج اور بعد از علاج مکمل طور پر تسلی بخش اور مستحکم رہی۔ انہیں ضروری طبی ہدایات، فالو اَپ شیڈول اور متعلقہ دستاویزات فراہم کر دی گئیں۔
واضح رہے کہ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل، راولپنڈی میں قید ہیں اور آنکھوں کے جاری علاج کے سلسلے میں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔