واٹرایمرجنسی کانفاذ،ایچی سن کالج کےطلباء بسوں پرسکول آئیں گے،عدالت

واٹرایمرجنسی کانفاذ،ایچی سن کالج کےطلباء بسوں پرسکول آئیں گے،عدالت
کیپشن: واٹرایمرجنسی نافذ،ایچی سن کالج کےطلباء بسوں پرسکول آئیں گے،عدالت

ویب ڈیسک:(سلیمان اعوان) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ حکومت کو فوری واٹر ایمرجنسی لگانا چاہئے، پائپوں کے ذریعے پانی کے ضیاع کو روکنا چاہئے،زیر زمین پانی کی سطح کم ہوتی جارہی ہے،ہم کتنے عرصہ سے بول رہے ہیں کہ 10 مرلہ یا اس سے اوپر کوئی ایسا گھر نہیں بنے گا جس میں پانی کی ریسائیکلنگ کا پلانٹ نہ ہو۔مزیدریمارکس دیئے کہ  یہ بتائیں کہ ایچیسن کو کون ڈیل کر رہا ہے،ایچیسن سے شروع کریں اور انکو بتائیں کہ انکے پچاس فیصد بچے کم از کم بسز پر آئیں گے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ  میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیخلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس شاہدکریم نے کی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے  کہ اگر اس سال بھی برف باری نہیں ہوئی تو یہ الارمنگ صورتحال ہے، حکومت کو فوری واٹر ایمرجنسی لگانا چاہئے، پائپوں کے ذریعے پانی کے ضیاع کو روکنا چاہئے،ہائیکورٹ میں بھی پائپوں کے ذریعے صحن دھویا جاتاہے،یہ حکومت کی طرف سے اقدامات لئے جانے چاہئے،زیر زمین پانی کی سطح کم ہوتی جارہی ہے،ہم کتنے عرصہ سے بول رہے ہیں کہ 10 مرلہ یا اس سے اوپر کوئی ایسا گھر نہیں بنے گا جس میں پانی کی ریسائیکلنگ کا پلانٹ نہ ہو۔

جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ پی ڈی ایم اے کے ڈی جی صاحب کہاں ہیں؟ کیا پی ڈی ایم اے کو اس نوٹس نہیں لینا چاہیئے تھا؟پی ڈی ایم اے کو بند کر دیں اگر اس نے کچھ نہیں کرنا،پی ڈی ایم اے خود سے تو کچھ نہیں کرتا،اگر ہر کام کورٹ نے یا کمیشن نے کرنا ہے تو پی ڈی ایم اے کو بند کر دیتے ہیں،یہ ڈیزاسٹر میننیجمنٹ اتھارٹی ہے،بڑے سکولز کو ٹارگٹ کریں اور ان سے شروع کریں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ بتائیں کہ ایچیسن کو کون ڈیل کر رہا ہے،ایچیسن سے شروع کریں اور انکو بتائیں کہ انکے پچاس فیصد بچے کم از کم بسز پر آئیں گے۔

ممبر واٹر کمیشن نے کہا کہ ہم نے نجی سکولز کا سروے کیا،تین سکولز کا سروے کیا جو کہ بسز کیلئے2 ہزار سے 10ہزار روپے تک چارج کر رہے ہیں۔

وکیل واسا نے کہا کہ واٹر میٹرز کے حوالہ سے کام کر رہے ہیں،پہلے کمرشل عمارات میں واٹر میٹر لگیں گے پھر نجی سطح پر۔

ممبر واٹرکمیشن نے کہا کہ کار شو رومز کا بھی مسئلہ ہے وہاں روزانہ گاڑیاں دھلتی ہیں۔

عدالتی معاون نے کہا کہ فورسٹ ڈیپارٹمنٹ نے مانگا منڈی کے قریب 600 ایکڑ جگہ روڈا کو دے رکھی ہے۔

ممبر واٹر کمیشن نے کہا کہ روڈا نے وہاں پر پلانٹیشن کرنا تھی، ابھی تک ایک درخت بھی نہیں لگایا،روڈا سے رپورٹ مانگی انہوں نے ابھی تک رپورٹ بھی نہیں دی،روڈا والے دیہاتی علاقوں کے لوگوں کو کروڑوں روپے کے ٹیکس نوٹسز بھیج رہے ہیں کمرشلائزیشن کے نام پر، مناواں میں پارک کی جگہ پر قبضے ہو رہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگلی پیشی میں اس پر جواب جمع کروائیں۔

ممبر واٹر کمیشن نے کہا کہ ٹرسٹ سکول بچوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کا 9 ہزار روپیہ لے رہا ہے۔

وکیل واسا  نے کہا کہ واٹر میٹرز کو ہم نے ایک شیڈول جاری کیا ہے، ہم اکتوبر 2025 تک اس کام کو مکمل کر لیں گے۔

جسٹس شاہد کریم  نے استفسار کیا کہ یہ واٹر میٹر آپ کہاں لگائیں گے؟ 

وکیل واسا نے کہا کہ سب سے پہلے ہم واٹر میٹرز کمرشل جگہوں پر لگائیں گے۔

ممبر واٹر کمیشن نے کہا کہ یہ کمرشل واٹر میٹر 2500 روپے لے رہے ہیں،اپنے کم بل میں تو وہ زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کر سکتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ان کے ٹیرف کو بڑھایا جائے، 15, 20 ہزار کریں، حکومت اور دیگر اداروں نے سموگ کے حوالے سے بہت عمدہ کام کیا ہے، سب کو مبارک ہو۔

Watch Live Public News

سینئر کورٹ رپورٹر