ویب ڈیسک: لاہورمیں اس سال سردیوں کا موسم ایک نئے ریکارڈ کے ساتھ گزررہا ہے، سردی کی بجائے جنوری میں ہی موسم بہار کیسے آگیا،شہری حیران محکمہ موسمیات نے وجہ بتا دی۔
تفصیلات کے مطابق یہ پہلا موسم سرما ہے جب رات کا درجہ حرارت گزشتہ 9 سالوں میں سب سے زیادہ رہا جبکہ دن کا درجہ حرارت معمولی طور پر کم رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سردیوں میں کمی کی بڑی وجہ لا نینا کی غیر موجودگی اور مسلسل مغربی ہواؤں کا آنا بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان 2025 کی پہلی ششماہی میں جیل سے باہر ہوں گے،صاحبزادہ حامد رضا
رات کے درجہ حرارت میں معمول کے مقابلے میں اضافہ ہوا، جو 9 ڈگری سیلسیس تک پہنچا، جبکہ دن کا درجہ حرارت اوسطاً 18.6 ڈگری سیلسیس رہا، جو ایک ڈگری کم تھا۔ یہ موسمی تبدیلی اکثر بادلوں اور دھند کی موجودگی سے منسلک رہی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، اس بار لا نینا کا نہ ہونا اور مغربی ہواؤں کے بار بار آنے سے ہوا کے دباؤ میں تبدیلیاں ہوئیں، جس کی وجہ سے لاہور اور قریبی علاقوں میں سردی کم پڑی۔ عام طور پر دسمبر اور جنوری میں شدید سردی پڑتی ہے لیکن اس بار لاہوریوں نے ہلکی سردی کا سامنا کیا۔

پہاڑی علاقوں میں بھی اس بار موسم غیر معمولی رہا۔ شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں برفباری معمول سے کم رہی، جس کے باعث درجہ حرارت زیادہ رہا اور کئی علاقوں میں برف پگھلنے لگی۔ جبکہ بارشیں بھی معمول سے 40 فیصد کم برسی ہیں جس کےباعث خشک سالی کا خطرہ ہے جبکہ گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار بھی متاثر ہوگی۔
ماہرین کے مطابق، لا نینا ایک قدرتی موسمی مظہر ہے، جو جنوبی امریکا سے آسٹریلیا اور ایشیا تک تجارتی ہواؤں کو مضبوط کرتا ہے۔ اس کے اثرات میں بارش اور سردی میں اضافے کی توقع ہوتی ہے لیکن اس بار اس کی عدم موجودگی نے پاکستان میں سردیوں کے موسم پر گہرا اثر ڈالا۔