ویب ڈیسک: حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کے چوتھے دور کی طلبی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جبکہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کیلئے دوبارہ غور کر لیتے ہیں لیکن حکومت کمیشن کا اعلان کرے۔
تفصیلات کے مطابق مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی نے 28 جنوری کو طلب کرلیا،چوتھا مذاکراتی اجلاس کانسٹیٹیوشن روم میں پونے 12بجے ہوگا۔

پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مذاکرات ہولڈ کئے ہیں، ہم کھلے دل کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھے تھے، ہم نے صرف دو مطالبات رکھے تھے، 7 دن کافی تھے کمیشن کیلئے لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن کے اعلان کیلئے 7 روز بھی بہت تھے، ہم دوبارہ غور کر لیتے ہیں لیکن حکومت کمیشن کا اعلان کرے۔
بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کی حمایت نہیں کریں گے، حکومت نے اپنے ایجنڈے پر 8 قانون رکھے ہیں، ایک 2021 کا قانون ہے، پانچ 2023 کے اور دو 2024 سے پڑے ہیں، 2021 والا قانون ابھی پاس نہیں ہو سکتا۔
سینیٹر عرفان صدیقی
حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نےصحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف جو بھی بات کرنی چاہتی ہے وہ اسپیکر سے کریں،28 جنوری کو مزاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس ہوگا اگر وہ اگلے اجلاس میں آتے ہیں تو کمیشن اور دیگر مسائل پر بات ہوگی،ہم 28 جنوری کے اجلاس میں ضرور شرکت کریں گے،تحریک انصاف کی کمیٹی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حکم پر فیصلہ کر چکی ہے،تحریک انصاف مزاکرات کیلئے بنی ہی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کر دیئے ہیں، کمیشن کی تشکیل تک حکومت کے ساتھ مذاکرات کا چوتھا دور نہیں ہوگا۔خان صاحب نے پہلے بھی حکومت کو سات دن کا وقت دیا تھا، بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ آج اگر حکومت نے کمیشن کا اعلان نہ کیا تو ہمارے مذاکرات کال آف ہیں۔
بیرسٹر گوہر اگر کمیشن کا اعلان اسی دوران نہیں ہوتا تو ہمارے مذاکرات کے مزید رائونڈ آگے نہیں چلیں گے، حکومت نے کمیشن کا اعلان ابھی تک نہیں کیا ، ہماری خواہش تھی مزاکرات ہوں اور آگے چلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کی ٹھنڈک اتنی زیادہ ہے جس سے بھرم نکل نہیں رہی، کمیشن بننا ہے تو تین سنیئر ججز سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ سے ہونے چاہیے، ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ اور 26ویں ترمیم کیخلاف کوشش کرینگے، ساری سیاسی جماعتوں کیساتھ ملکر جدوجہد شروع کرینگے، خان صاحب نے کہا ہے آج کے دن تک کمیشن کا اعلان ہونا تھا نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب پہلے کہہ چکے ہیں ہمیں کسی بیرون ملک کی مدد کا انتظار نہیں ہے نہ پی ٹی آئی اس بات پر یقین کرتی ہے۔