ویب ڈیسک: گلگت بلتستان کے سکردو سمیت پاکستان کے بالائی علاقوں میں بار بار ہونے والے ’ کلاؤڈ برسٹ‘ نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ جو قدرتی واقعہ پہلے شاذ و نادر پیش آتا تھا، وہ اب مسلسل کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی وجہ جاننا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
’ کلاؤڈ برسٹ‘ یا بادل پھٹنے کا مطلب ہوتا ہے ایک مختصر وقت میں شدید بارش، جو عام طور پر محدود علاقے میں ہوتی ہے۔ اگر ایک گھنٹے میں 10 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ بارش صرف 10 کلومیٹر کے دائرے میں ہو، تو سائنسدان اسے کلاؤڈ برسٹ کہتے ہیں۔
یہ صورتحال اکثر پہاڑی علاقوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جب گرم مرطوب ہوا پہاڑوں کی بلندی کی طرف جاتی ہے، تو ٹھنڈی ہو کر بادلوں میں نمی جمع کرنے لگتی ہے۔ بعض اوقات بارش فوری نہیں ہوتی اور نمی مسلسل جمع ہوتی رہتی ہے—اور پھر ایک دم اچانک موسلا دھار بارش کی صورت میں زمین پر گرتی ہے، جو ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈ کا باعث بنتی ہے۔
شہری علاقوں میں ایسی بارش گلیوں کو ندیوں میں بدل دیتی ہے، جبکہ پہاڑوں میں مٹی کے تودے، سڑکیں بند اور املاک کو نقصان پہنچتا ہے۔ کلاؤڈ برسٹ کے ساتھ تیز ہوائیں، بجلی کی گرج چمک اور بعض اوقات ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے موسمیاتی واقعات میں اضافے کی اہم وجہ گلوبل وارمنگ ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ بادلوں میں نمی کے ذخیرے کو بڑھا دیتا ہے، جو پھر اچانک اور شدید بارش کا باعث بنتا ہے۔ مزید خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پہاڑوں میں بے ہنگم ترقیاتی کام، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی نظام کو متاثر کیا جائے۔
ایسے حالات میں احتیاط ضروری ہے۔ محکمہ موسمیات کی وارننگز پر فوری عمل کریں، نشیبی علاقوں سے نکل کر اونچی جگہوں کا رخ کریں، اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے بنیادی اصولوں سے آگاہی رکھیں۔
کلاؤڈ برسٹ کو روکا تو نہیں جا سکتا، مگر دانشمندی اور بروقت فیصلے جانیں بچا سکتے ہیں۔