ویب ڈیسک: امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر جانسن نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کانگریس کے لیے " جنگی اختیارات کی قرارداد" پر غور کرنا مناسب نہیں ہے۔ حالات ایسے نہیں کہ اس قسم کی قرارداد کو زیرِ بحث لایا جائے۔
کانگریس کے چند اراکین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کررہے ہیں جس کے تحت ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
تاہم امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن رہنما ان حملوں کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔
اس صورتحال میں مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس کی جانب سے ایسی کسی قرارداد کی منظوری کا امکان نہیں ہے جو صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرے یا جنگ کے اعلان کے مکمل اختیارات کانگریس کو منتقل کرے۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن میں ایران کے حوالے سے پالیسی پر اختلافات موجود ہیں، مگر ریپبلکن قیادت اس معاملے میں انتظامیہ کے فیصلوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قطر میں موجود امریکی فضائی اڈے پر میزائل حملے کیے ہیں، عراق میں قائم امریکی اڈوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ بحرین میں سائرن کی آوازیں سنی گئیں جس سے وہاں کے مقامی شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔