ویب ڈیسک: “کاکروچ جنتا پارٹی” نامی ایک نئی ڈیجیٹل تحریک نے کھل کر بی جے پی کے پروپیگنڈا نظام اور رائٹ ونگ بیانیے کو چیلنج کیا ہے۔
23 مئی 2026 کو “Official PeeingHuman” کی جانب سے پوسٹ کی گئی 2 منٹ 38 سیکنڈ کی ایک وائرل ویڈیو نے تقریباً 493 ہزار ویوز اور 2.7 ہزار ری ایکشنز حاصل کیے۔ ویڈیو میں الزام لگایا گیا کہ بی جے پی حامی اور رائٹ ونگ حلقے تنقیدی آوازوں کو دبانے کیلئے جھوٹے بیانیے پھیلا رہے ہیں۔ ویڈیو کے مطابق تیزی سے یہ پروپیگنڈا پھیلایا گیا کہ “کاکروچ جنتا پارٹی” ایک “غیر ملکی فنڈڈ” اور “ملک دشمن” ایجنڈا ہے۔ اس بیانیے میں دعویٰ کیا گیا کہ تحریک کے 50 فیصد ناظرین پاکستان سے جبکہ صرف 9 فیصد بھارت سے ہیں۔
مقرر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا سیاسی نظام ہر تنقید، احتجاج اور عوامی تحریک کو غیر ملکی سازش قرار دیتا ہے۔ ویڈیو میں یاد دلایا گیا کہ شاہین باغ کی خواتین، جو دہلی کی شدید سردی میں مہینوں احتجاج کرتی رہیں، انہیں “500 روپے اور بریانی” والی خواتین کہا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ ایک سال جاری رہنے والی کسان تحریک کو بھی “خالصتانی سازش” قرار دیا گیا۔ عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن Sonam Wangchuk کو بھی “چینی پاکستانی ایجنٹ” کہا گیا۔ نوئیڈا میں کم از کم اجرت مانگنے والے مزدوروں کے احتجاج کو بھی یوپی کے وزیرِ محنت نے “پاکستانی پروپیگنڈا” قرار دیا۔
مقرر کے مطابق فیک اور گھڑا ہوا پروپیگنڈا سوشل میڈیا، واٹس ایپ نیٹ ورکس اور مین اسٹریم میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔ ویڈیو کے مطابق اس پروپیگنڈے نے عام بھارتیوں کے ذہنوں میں سچ اور جھوٹ کے بارے میں شدید ابہام پیدا کر دیا ہے۔ تحریک نے دعویٰ کیا کہ باشعور بھارتی عوام اب بی جے پی کے اس مبینہ “پروپیگنڈا ٹول کٹ” کو سمجھ چکی ہے۔
ویڈیو میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ آفیشل پلیٹ فارم insights کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے 90 فیصد فالوورز بھارت میں رہنے والے بھارتی شہری ہیں۔ تحریک نے خود کو بھارت کی “دبی ہوئی آوازوں کا سیلاب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز پروپیگنڈا اب اس “انقلابی سچ” کو مزید نہیں دبا سکتا۔