جاپانی بس ڈرائیور 84ہزار ڈالر کے ریٹائرمنٹ پیکیج سے محروم

جاپانی بس ڈرائیور 84ہزار ڈالر کے ریٹائرمنٹ پیکیج سے محروم
کیپشن: جاپانی بس ڈرائیور 84ہزار ڈالر کے ریٹائرمنٹ پیکیج سے محروم

ویب ڈیسک: جاپان میں 30 سال تک ایمانداری سے بس چلانے والے ایک ڈرائیور کی معمولی سی غلطی نے اس کی پوری زندگی کی جمع پونجی چھین لی۔ صرف 7 ڈالر کی کرایہ چوری کے الزام میں نہ صرف اسے نوکری سے برخاست کر دیا گیا بلکہ 84 ہزار ڈالر (12 ملین ین) کے ریٹائرمنٹ پیکیج سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 2022 میں پیش آیا تھا، جب کیوٹو میونسپل ٹرانسپورٹیشن بیورو کے حکام نے بس ڈرائیور کی نگرانی کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا کہ وہ کرایہ جمع کروانے کے بجائے ایک ہزار ین کا بل اپنی جیب میں رکھ رہا ہے۔

معاملے کی چھان بین کے دوران ڈرائیور نے اس الزام کی تردید کی، تاہم ادارے نے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ملازمت سے فارغ کر دیا۔ ساتھ ہی اس کا ریٹائرمنٹ فنڈ بھی منسوخ کر دیا گیا، جس کی مالیت تقریباً 84 ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے۔

ریٹائرمنٹ فنڈ سے محرومی کے بعد متاثرہ ڈرائیور نے عدالت سے رجوع کیا اور ادارے کے فیصلے کو چیلنج کیا۔ تاہم، حالیہ دنوں میں اس مقدمے کا فیصلہ آ گیا، جس میں عدالت نے ادارے کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ڈرائیور کی درخواست مسترد کر دی۔

جاپانی اخبار کے مطابق کیوٹو ٹرانسپورٹیشن بیورو نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ادارے میں شفافیت اور ایمانداری کے اصولوں کی جیت قرار دیا ہے۔

یہ واقعہ جاپانی معاشرے میں دیانت داری اور ادارہ جاتی سختی کی ایک واضح مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں معمولی بددیانتی پر بھی بڑی سزا دی جاتی ہے۔

Watch Live Public News