سینیٹ اجلاس:بھارتی اقدامات کے خلاف سینیٹ میں قرارداد منظور

سینیٹ اجلاس:بھارتی اقدامات کے خلاف سینیٹ میں قرارداد منظور
کیپشن: سینیٹ اجلاس:بھارتی اقدامات کے خلاف سینیٹ میں قرارداد منظور

ویب ڈیسک:بھارتی جارحیت اور اقدامات کے خلاف سینیٹ سے مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی، اپوزیشن سمیت سینیٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی۔

سینیٹ اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 22 اپریل کو پہلگام میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر پاکستان کو بلاجواز موردِ الزام ٹھہرانا قابل افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اُس وقت ترکیہ کے دورے پر تھے، اور پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکل وقت میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

نائب وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی لائن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کرنے، سارک اسکیم کے تحت بھارتی شہریوں کے ویزے معطل کرنے (تاہم سکھ یاتریوں کو استثنیٰ دینے) کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد کم کر کے 30 کر دی ہے اور بھارتی دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کی فضائی حدود بھی بھارتی پروازوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پانی کے مسائل پر جنگوں کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، اور بھارت کی کسی بھی مہم جوئی پر پاکستان منہ توڑ جواب دے گا۔ اسحاق ڈار نے اس امر پر زور دیا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات سے گریز کرے، ورنہ پاکستان دو طرفہ معاہدوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گا۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ روز 26 ممالک کے سفیروں کو دفتر خارجہ میں بھارتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی اور انہیں پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا گیا۔

بھارتی اقدامات کے خلاف سینیٹ میں قرارداد منظور

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس کے دوران معمول کی کارروائی معطل کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھارتی اقدامات کے خلاف قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ساتھ ہی بھارت کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔

Watch Live Public News