ویب ڈیسک: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری اور تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں و ٹینکرز پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جو ایرانی تیل کی نقل و حمل میں ملوث ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ہینگلی پیٹروکیمیکل (ڈالیان) ریفائنری کو ایران کے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے خریدار کے طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈالیان کی یومیہ خام تیل پراسیسنگ صلاحیت تقریباً 4 لاکھ بیرل ہے، اور یہ چین کی سب سے بڑی آزاد ریفائنریز میں شامل ہے۔
محکمہ خزانہ نے ایران کے ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کے تحت کام کرنے والی تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ کئی بحری جہاز بلیک لسٹ کیے گئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ یعنی تیل کی برآمدات روکنا ہے۔
چین نے پابندیوں کو یک طرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معمول کی تجارت کو متاثر نہیں ہونے دے گا۔ چینی سفارتخانے نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تجارت اور سائنس و ٹیکنالوجی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے اور چینی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے لیے پابندیوں کا غلط استعمال بند کرے۔
یہ پابندیاں ٹرمپ انتظامیہ کی پچھلی کارروائیوں کا حصہ ہیں، جس میں ٹی پاٹ ریفائنریز جیسے ہیبائی سنہائی کیمیکل گروپ اور شیڈونگ شوگوانگ لوچنگ پیٹروکیمیکل بھی شامل تھیں۔ ان پابندیوں نے ریفائنریز کو خام تیل کی ترسیل اور مصنوعات کی فروخت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تجزیاتی کمپنی کپلر کے مطابق، چین ایران کے برآمد کردہ تیل کا 80 فیصد سے زائد خریدتا ہے، اور پابندیوں کے اثرات چین کی ریفائننگ صنعت پر بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔