یوکرین جنگ خاتمے پر اہم پیشرفت،ٹرمپ اورماخرون میں اختلافات

یوکرین جنگ خاتمے پر اہم پیشرفت،ٹرمپ اورماخرون میں اختلافات
کیپشن: یوکرین جنگ چند ہفتوں میں ختم ہوسکتی ہے: ٹرمپ کی میکرون سے ملاقات میں گفتگو

ویب ڈیسک: امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدرماخرون کے درمیان ملاقات اور پریس کانفرنس۔۔صدرڈونلڈٹرمپ نے یوکرین جنگ ختم کرنے پر روس کی آمادگی کا اشارہ دیدیا۔صدرماخرون کی جانب سےیوکرین میں سرینڈر کرنے پراختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔

تفصیلا ت کے مطابق ماخرون نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں ٹرمپ کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین روس جنگ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بن سکتی ہے،جنگ کا اثر پورے یورپ پر پڑے گا۔ یوکرین جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے، مذاکرات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں،یوکرین میں امن کے لیے یورپی افواج بھیجنے میں کوئی مسئلہ نہیں،روسی صدر پوٹن یورپی امن دستوں کو قبول کریں گے،یوکرین صدر سے رواں ہفتے ملاقات کروں گا۔کسی موقع پر روسی صدر سے بھی ملاقات کروں گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا کہ مناسب وقت پر ماسکو جانے کے لیے تیار ہوں،یوکرین میں امن کیلئے یورپی افواج بھیجنے میں بظاہر کوئی مسئلہ نہیں،یوکرین کو اپنا علاقہ چھوڑنا چاہیے یا نہیں اس سے متعلق دیکھیں گے،روسی صدر یوریپی امن دستوں کو قبول کر لیں گے، یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر ماخرون نے کہا کہ امن مشن میں یورپی فوجیوں کو شامل کر سکتے ہیں۔یوکرین کی سلامتی کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہیں،امن مشن میں یورپی فوجیوں کو شامل کر سکتے ہیں،یورپی فوج فرنٹ لائن پر نہیں ہوں گی،ہمارا مقصد یوکرین میں دیر پا امن قائم کرنا ہے۔

یوکرین جنگ بندی پر روسی صدر پیوٹن کا ردعمل

روسی صدر ویلادی میر پیوٹن نے یوکرین امن معاہدے پر رد عمل  دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور روس نے براہ راست مذاکرات سے امن کی جانب قدم بڑھایا،امریکا اور روس کے مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان تھے،یورپی ممالک،سعودی عرب میں اہم ملاقاتوں پر حیران کیوں ہیں؟یورپی ممالک کسی صورت روس پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں۔

روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ یوکرین امن پیچیدہ معاملہ،یورپی ممالک کی شرکت،امن کیلئے اگلا قدم ہے،یوکرین امن کیلئے یورپی ممالک  اہم شراکت دار ہیں،روسی صدر پیوٹن نے یورپی ممالک کی شرکت کو خوش آئند قرار دیا۔چینی صدر سے برکس کے مستقبل کے حوالے سے تبالہ خیال کیا،دوست ملک چین نے آگاہ کیا کہ برکس اتحاد کا مستقبل اچھا ہو گا،برکس ممالک جلد ہی نیویارک میں اس مسئلے پر بات کرنےکیلئے جائیں گے۔

استعفا دینے کے لئے تیار ہوں ، صدر زیلنسکی 

 دوسری طرف یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ اگر یوکرین کو نیٹو کی رکنیت مل جائے اور امن قائم ہوسکتا ہے تو وہ بطور رہنما مستعفی ہونے کے لیے "تیار" ہیں  - جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر یوکرین کے اہم معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل کے لیے امریکی مطالبات کے خلاف بھی پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

 اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ یوکرین کے لیے امن کو یقینی بنانے کے لیے استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں، زیلنسکی نے کہا: ہاں"اگر یہ یوکرین کے لیے امن کی ضمانت دیتا ہے،  میں اسے نیٹو سے بدل سکتا ہوں۔

 یادرہےاس ماہ کے شروع میں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگزتھ نے کہا کہ کیف کا نیٹو میں شامل ہونا غیر حقیقت پسندانہ تھا، جس نے اتحاد کی بیان کردہ پالیسی کو رد کیا کہ یوکرین رکنیت کے لیے "ناقابل واپسی راستے" پر ہے۔

Watch Live Public News