ویب ڈیسک: ایران اور چین کے درمیان اینٹی شپ کروز میزائلوں کی خریداری کا بڑا معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایرانی ساحل کے قریب اپنے دو بڑے بحری بیڑے تعینات کر دیے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران چین سے جدید ترین سی ایم302میزائل حاصل کرنے کے قریب ہے، جو آواز کی رفتار سے بھی تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ میزائل تقریباً 290کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں اور سمندر کی سطح کے قریب پرواز کرنے کی وجہ سے بحری جہازوں کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران یہ میزائل حاصل کر لیتا ہے تو اس کی دفاعی اور جارحانہ طاقت میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا، جو خطے میں امریکی بحری افواج کے لیے سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔
معاہدے کے لیے مذاکرات گزشتہ دو سال سے جاری تھے، لیکن جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ تنازع کے بعد ان میں تیزی آ گئی۔ بتایا گیا ہے کہ ایران کے نائب وزیر دفاع مسعود اورائی نے گزشتہ موسم گرما میں خود چین کا دورہ کیا تاکہ یہ معاہدہ حتمی شکل پا سکے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان میزائلوں کی موجودگی جنگی صورتحال کو بدل سکتی ہے کیونکہ انہیں ناکارہ بنانا انتہائی مشکل ہے۔ دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے اس معاہدے سے لاعلمی ظاہر کی ہے، جبکہ امریکی وائٹ ہاؤس نے صرف کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا موقف واضح ہے: یا تو ایران کے ساتھ نیا معاہدہ ہوگا یا پھر سخت کارروائی کی جائے گی۔
امریکہ اس وقت ایرانی ساحل کے قریب اپنے دو بڑے طیارہ بردار بحری جہاز، یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ تعینات کر چکا ہے، جن پر پانچ ہزار سے زائد اہلکار اور تقریباً ڈیڑھ سو جنگی طیارے موجود ہیں۔
خطے میں ایران اور چین کے بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات امریکہ کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں، جو ایران کے میزائل پروگرام اور ایٹمی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر ماضی میں اقوام متحدہ کی جانب سے اسلحے کی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جو مختلف ادوار میں معطل اور پھر بحال ہوتی رہی ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ نے ایرانی صدر کی حمایت کا یقین دلایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیے گئے سیکیورٹی معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔