حماس نےاسرائیل کی 4فوجی خواتین کو رہا کردیا

حماس نےاسرائیل کی 4فوجی خواتین کو رہا کردیا
کیپشن: حماس نےاسرائیل کی 4فوجی خواتین کو رہا کردیا

ویب ڈیسک: غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت مغویوں کی رہائی کے دوسرے مرحلے میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مزید اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق چاروں یرغمالیوں کو فلسطینی شہریوں اور حماس کے مسلح جنگجوئوں کی موجودگی میں ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا جہاں انہیں عالمی تنظیم کے حوالے کیا گیا۔

یرغمالیوں نے پلیٹ فارم پر مسکرا کر ہاتھ لہرائے اور پھر ریڈ کراس کی گاڑیوں میں سوار ہو گئییں انہیں پہلے غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا اوربعدازاں انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے تل ابیب اسرائیل منتقل کردیا جہاں ہسپتال میں مکمل طبی معائنے کےبعد اپنےاہل خانہ سے ملاقات کے لئے روانہ کردیا گیا۔

حماس کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ سنیچر کو ہونے والے ایکسچینج میں 200 قیدیوں کو بدلے میں رہا کیا جائے گا، جن میں سے 120 کو عمر قید کی سزا ہوئی جبکہ دیگر 80 کو بھی لمبی سزائیں سنائی گئیں۔

ان خواتین اہلکاروں کے ساتھ ایک اور خاتون اہلکار کو بھی اغوا کیا گیا تھا، تاہم ان کو ان چاروں کے ساتھ رہا نہیں کیا جا رہا اور آنے والے ہفتوں میں ان کی رہائی کا بھی امکان ہے۔

قبل ازیں حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے دوحہ سے ٹیلی فون پر  میڈیا کو بتایا تھاکہ آج حماس تبادلے کے دوسرے بیج میں چار قیدیوں کے نام اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے حوالے کرے گی۔

عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے غزہ میں موجود افراد کے رشتہ داروں نے جمعے کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ باقی تمام اسیروں کی رہائی کو بھی یقینی بنائیں۔ساتھ ہی یرغمالوں کے رشتہ داروں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالتے رہیں۔

 بدھ کی شام یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ حماس تبادلے کے معاہدے کی پاسداری کرے گی اور ہفتے کے روز چار زیر حراست افراد کو رہا کر دے گی۔ حماس نے ایک ہفتہ قبل طے پانے والے معاہدے میں جنگ بندی کے ساتویں دن یہ فہرست حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

 دوسری طرف مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کے  قریب قباطیا میں   اسرائیلی فوج کے ڈرون طیارے نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دو نوجوان ہلاک ہو گئے۔

عینی شاہدین اور فلسطینی سیکورٹی ذرائع کے مطابق حملے میں گاڑی جل کر مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ مرنے والوں کے نام محمود كميل اور حمود زكارنہ بتائے گئے ہیں۔اس طرح منگل سے جنین شہر اور اس کے کیمپ میں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 14 ہو گئی ہے، زخمیوں کی تعداد 50 سے زیادہ ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ نشانہ بنائی جانے والی گاڑی میں مسلح افراد سوار تھے۔فوج کا کہنا ہے کہ قباطیا میں اس کی کارروائی جاری رہے گی۔

ایملی ڈاماری، جسے گزشتہ ہفتے رہا کیا گیا تھا، نے اپنے اغوا کاروں کو کہا تھا کہ کیا ان کی جگہ کیتھ سیگل کو رہا کیا جا سکتا ہے۔ جے پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق جب ایملی کو اطلاع ملی کہ اسے رہا کیا جانا ہے اور ایک یرغمالی 65 سالہ کیتھ کو اس کے ساتھ رہا نہیں کیا جائے گا، اس نے مبینہ طور پر حماس  رہنماؤں سے اپیل کی کہ اس کی جگہ کیتھ سیگل کو چھوڑ دیا جائے تاہم   حماس لیڈروں نے یہ درخواست قبول نہیں کی ۔

Watch Live Public News