ویب ڈیسک: وینزویلا میں پے در پے آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جبکہ حکام اور ماہرین نے ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلا زلزلہ 7.1 شدت کا تھا، جس کے چند ہی منٹ بعد 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے آنے والے شدید جھٹکوں سے عمارتیں لرز اٹھیں اور کئی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں درجنوں عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرچ اور ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے زلزلے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعدد رہائشی اور تجارتی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراکس کے مرکزی مائی کیٹیا ایئرپورٹ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
حکام کے مطابق اب تک 167 افراد کی ہلاکت اور 970 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم ملبے تلے پھنسے افراد کی موجودگی کے باعث جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔
حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر امدادی اور بحالی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شمالی علاقوں میں بھی 5.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد کو احتیاطی الرٹ جاری کر دیا گیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا میں تباہی کی شدت کے پیش نظر ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ابتدائی رپورٹس کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے متاثرہ علاقوں کے لیے فوری امدادی اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔