بھارت میں بدھ مت پیروکاروں کا بودھ گیا مندر پر ہندو کنٹرول کےخلاف شدید احتجاج

بھارت میں بدھ مت پیروکاروں کا بودھ گیا مندر پر ہندو کنٹرول کےخلاف شدید احتجاج
کیپشن: بھارت میں بدھ مت پیروکاروں کا بودھ گیا مندر پر ہندو کنٹرول کےخلاف شدید احتجاج

ویب ڈیسک: بھارت بھر میں بدھ مت کے پیروکاروں نے بودھ گیا میں واقع مقدس مہابودھی مندر پر ہندو کنٹرول کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مہابودھی مندر کو 1949 کے بودھ گیا ٹیمپل ایکٹ کے تحت چلایا جاتا ہے، جس کے مطابق آٹھ رکنی کمیٹی میں ہندو اور بدھ نمائندوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے۔ تاہم، بدھ رہنما اس قانون کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مندر کے مکمل انتظامی کنٹرول کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

 مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہندو رسومات بدھ مت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور مندر کا مکمل اختیار بدھ کمیونٹی کو دیا جائے۔

حالیہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پولیس نے بھوک ہڑتال کرنے والے بدھ راہبوں کو زبردستی ہٹایا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہندو اکثریت کے زیر سایہ حکومت بدھ مت کے حقوق کو نظرانداز کر رہی ہے۔

 تنازعہ کی جڑیں تاریخی:

تاریخی اعتبار سے یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب 16ویں صدی سے ہندوؤں نے مندر پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ بودھ گیا ماتھ، جو ایک ہندو خانقاہ ہے، اپنے کردار کا دفاع کرتے ہوئے تاریخی تحفظ کی کوششوں کو اپنی ذمہ داری قرار دیتی ہے۔

باوجود اس کے کہ معاملہ متعلقہ حکام اور سپریم کورٹ تک پہنچایا گیا ہے، تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔ ہندو راہبوں نے ان مظاہروں کو سیاسی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

بدھ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کی یکجہتی میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Watch Live Public News