(ویب ڈیسک) ناسا کی جانب سے چاند اور مریخ سے متعلق اپنے نئے منصوبوں کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ایک ایونٹ کے دوران ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین نے کہا کہ چاند پر ہماری بیس راتوں رات تیار نہیں ہوگی بلکہ اگلے 7 سالوں میں ہم 20 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ چاند پر بیس کی تعمیر درجنوں مشنز کے ذریعے ممکن ہوگی۔
جیراڈ آئزک مین نے کچھ اور منصوبوں کا اعلان بھی کیا جن میں سب سے اہم مریخ کیلئے جوہری پاور پر پرواز کرنے والے اسپیس کرافٹ کو تیار کرنا ہے جس وہ 2028 تک بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے چاند کے مدار میں اسپیس اسٹیشن کی تعمیر کے منصوبوں کو ختم کر دیا ہے۔
جیراڈ آئزک نے چاند پر تعمیر کی جانے والی بیس سے متعلق بتایا کہ اس سے پہلے 1960 کی دہائی میں ناسا نے ناممکن کو مکن بنایا اور اب ہم ایک بار پھر ایسا اس نئی بیس سے ممکن بنائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مریخ کے لیے جوہری پاور پر پرواز کرنے والے اسپیس ری ایکٹر 1 فریڈم کو 2028 تک روانہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
جیراڈ آئزک مین نے بتایا کہ یہ اسپیس کرافٹ جب مریخ پر پہنچے گا تو اس سیارے کے راز جاننے کے لیے ہیلی کاپٹرز کو وہاں چھوڑے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چاند کی سطح پر خلا بازوں کی واپسی کچھ تاخیر کا شکار ہے کیونکہ اسپیس ایکس اب تک ناسا کے لیے لینڈرز تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔