ویب ڈیسک: چابہار منصوبہ مشکلات کا شکار، امریکہ-ایران جنگ کے دوران چابہار پورٹ کے لیے کوئی نئی فنڈنگ مختص نہیں کی گئی۔
ایران، جسے کبھی بھارت کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار کہا جاتا تھا، آج ایک استعمال شدہ مہرے کی طرح چھوڑ دیا گیا، جبکہ چابہار پورٹ کی تعمیر کے لیے بھی نئی فنڈنگ نہیں دی گئی۔ ایران کو برسوں تک بھارت کا قریبی اسٹریٹجک پارٹنر بنا کر پیش کیا گیا، مگر مغربی دباؤ کے سامنے نئی دہلی نے پیچھے ہٹنا بہتر سمجھا، جبکہ یونین بجٹ میں چابہار منصوبے کے لیے کوئی نیا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔
امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں بھارت نے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری اور قومی مفادات کو نقصان پہنچایا، جبکہ اس کے اسٹریٹجک اتحادی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے۔ بھارت اور ایران کے درمیان نام نہاد شراکت داری اب کمزور پڑ چکی ہے اور امریکہ و اسرائیل کے دباؤ کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ تنازع میں ثالثی کردار نہ ملنے پر بھارتی مایوسی بھی سامنے آ رہی ہے۔
بھارت کی نام نہاد “اسٹریٹجک خودمختاری” پر امریکی ناراضی نے نئی دہلی کو مزید امریکی خارجہ پالیسی کے قریب کر دیا ہے، جس کا ثبوت ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی کھل کر مذمت نہ کرنا ہے۔
بھارت مشرقِ وسطیٰ بحران کو غلط انداز میں سنبھال رہا ہے؛ اس نے اپنے اتحادی ایران کو تنہا چھوڑ دیا جبکہ اسرائیل اور امریکہ کی کارروائیوں اور خطے میں جنگ مسلط کیے جانے پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اسٹریٹجک خودمختاری اب ایک کھوکھلا نعرہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ نئی دہلی کی حقیقت دنیا کے سامنے واضح ہو رہی ہے۔
کیپشن: چابہار ناکامی اور مشرقِ وسطیٰ میں بھارت کی کمزور ہوتی اسٹریٹجک پوزیشن