پاکستان کا بڑھتا ہوا عالمی کردار اور بھارت کے “وشو گرو” اور “وشو بندھو” بیانیے کو چیلنج

پاکستان کا بڑھتا ہوا عالمی کردار اور بھارت کے “وشو گرو” اور “وشو بندھو” بیانیے کو چیلنج
کیپشن: پاکستان کا بڑھتا ہوا عالمی کردار اور بھارت کے “وشو گرو” اور “وشو بندھو” بیانیے کو چیلنج

ویب ڈیسک: ایران جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار اور بڑھتی عالمی اہمیت نے بھارت کے “ وشو گرو” اور “ وشو بندھو” کے دعوؤں کو کمزور کر دیا، جبکہ نئی دہلی عالمی سطح پر الجھا ہوا، ردعمل دینے پر مجبور اور کمزور نظر آ رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے امن مذاکرات میں بھارت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کی بڑھتی سفارتی اہمیت پر بھارت میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ مودی حکومت نے برسوں تک “ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے” کی پالیسی پر کام کیا، اربوں روپے لابنگ، میڈیا مہمات اور سفارتی ڈراموں پر خرچ کیے گئے، مگر یہ کوشش بری طرح ناکام ہوئی اور بھارت کی اپنی کارروائیاں ہی پاکستان کی بڑھتی مقبولیت کی وجہ بن گئیں۔
پاکستان آج بھی چین، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے؛ پاکستان کو تنہا کرنے کے بجائے اب بھارت خود عالمی سطح پر الگ تھلگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کی نام نہاد اسٹریٹجک شراکت داری بھی کمزور نظر آ رہی ہے۔
پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی بھارتی کوششیں الٹا بھارت کے خلاف چلی گئیں اور دنیا کے سامنے بھارت ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا جو بات چیت کے لیے بہت غرور رکھتا ہے مگر غلبہ حاصل کرنے کے لیے بہت کمزور ہے۔
مودی حکومت جو کبھی ایران کے ساتھ قریبی تعلقات پر فخر کرتی تھی، آج سفارتی تنہائی کے خطرے سے دوچار ہے جبکہ پاکستان امن مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ “ بھارت کوئی ثالث ملک نہیں”، جبکہ وزیر اعظم مودی نے یوکرین جنگ کے دوران خود کو امن کا داعی اور ثالث ظاہر کیا، جس سے مختلف خطوں میں بھارت کی خارجہ پالیسی کے تضادات کھل کر سامنے آ گئے۔

Watch Live Public News