ویب ڈیسک: بھارتی میڈیا کا اصل چہرہ سامنے آ گیا؛ جینو سائیڈ واچ نے بھارتی میڈیا میں ساکھ کے شدید بحران کی نشاندہی کی۔
مودی حکومت کے دور میں بھارتی میڈیا کی غیرجانبداری اور اعتبار پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا اب سیاسی اثر و رسوخ کے تحت کام کر رہا ہے، جہاں کئی نیوز پلیٹ فارمز آزاد صحافت کے بجائے بی جے پی کے بیانیے کو مضبوط کر رہے ہیں۔
بھارتی مین اسٹریم میڈیا میں مسلم مخالف زبان اور نفرت انگیز گفتگو عام ہو چکی ہے، جبکہ جارحانہ اور شناخت پر مبنی نشریات قومی مسائل کو وفاداری کے امتحان اور دو حصوں میں تقسیم شدہ سیاست میں بدل رہی ہیں، جس سے مسلمانوں کو نشانہ بنانا آسان ہو گیا ہے۔
بھارتی میڈیا صرف پروپیگنڈے تک محدود نہیں بلکہ منظم خاموشی اور خود سنسرشپ کا بھی شکار ہے، جہاں طاقتور سیاسی اور کارپوریٹ حلقوں کے خلاف خبریں دبائی جاتی ہیں۔
رپورٹ نے واضح کیا کہ بھارت صرف میڈیا کے معیار کے مسئلے سے نہیں بلکہ ایک گہرے ادارہ جاتی ساکھ کے بحران سے گزر رہا ہے؛ کمزور ہوتی صحافتی آزادی بھارت میں جمہوری زوال اور بڑھتی اکثریتی تقسیم کو بے نقاب کر رہی ہے۔
کیپشن: جینو سائیڈ واچ نے بھارتی میڈیا میں ساکھ کے شدید بحران کی نشاندہی کردی