ویب ڈیسک : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا عدالت عظمیٰ کے اعلیٰ ترین جج کی حیثیت سے آج آخری دن ہے اور ان کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے فل کورٹ ریفرنس کا آغازہوا۔نامزد چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اکسائیں تو پھر ان کے غصے سے بچنا مشکل ہے۔
تفصیلا ت کے مطابق فل کورٹ ریفرنس سپریم کورٹ کمرہ عدالت نمبر ایک میں ساڑھے 10 بجے شروع ہوا جس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت 16 ججز شریک ہیں۔
الوداعی ریفرنس میں نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس عقیل عباسی شریک ہیں۔
علاوہ ازیں الوداعی ریفرنس میں ایڈہاک ججز جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں بھی شریک ہیں، شرعی عدالتی بنچ کے دو عالم ججز بھی فل کورٹ ریفرنس میں موجود ہیں، الوداعی ریفرنس میں 12 مستقل جج صاحبان، 2 ایڈہاک ججز اور 2 عالم ججز شریک ہیں۔
متعدد ججزکی عدم شرکت
سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ رخصت پر ہونے کی وجہ سے فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہیں ہیں، ان کے علاوہ جسٹس ملک شہزاد، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک بھی ریفرنس میں شریک نہیں ہیں۔
تلاوت قرآن پاک
الوداعی ریفرنس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیا گیا۔
چیف جسٹس فائز عیسی کافل کورٹ ریفرنس سے خطاب
چیف جسٹس فائز عیسی نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شکر ہے میری اہلیہ آج موجود ہیں اور انہوں نے خود میری تعریفیں سن لیں،ان لوگوں کابھی شکریہ جو آج ہم میں موجود نہیں، سب سے پہلے شکریہ اللہ تعالیٰ کا جس نے مجھے منصب عطاء کیا،شکریہ چوہدری افتخار کا جنہوں نے مجھے بلوچستان ہائی کورٹ کیلئے چنا، 16 سال کی عمر میں تھا جب میرے والد کا انتقال ہوا، میری دادی پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دی۔
قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری والدہ نے مجھے نصیحت دی کہ ڈگری کر لو پھر جو مرضی کر لینا، تعلیم کے فورا بعد میری شادی بھی ہو گئی ، پیشہ وارانہ اور شادی شدہ زندگی کو 42 سال ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے ایک دفعہ کال آئی کہ چیف جسٹس بلا رہے ہیں، میں انگریزی اخبار میں لکھ رہا تھا مجھے لگاکہ چیف جسٹس نے ڈانٹنے کیلئے بلایا ہے، چیف جسٹس نے کہا بلوچستان میں کوئی جج نہیں ، آپ چیف جسٹس بنیں ، چیف جسٹس بلوچستان بننے کے بعد زندگی بدل گئی ، بلوچستان میں جو کام کیئے ان کا لوگوں کو معلوم ہے، بلوچستان میں جو کیا اہلیہ کا کردار تھا لیکن اہلیہ نے کہا نام نہیں لایا جائے گا، بلوچستان کے ہر ضلع میں اہلیہ کے ساتھ گیا، میرے والد بلوچستان کے پہلے بیرسٹر تھے۔
چیف جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ 2 لوگ میرے ساتھ آئے، پروفیسر ڈاکٹر مشتاق بطور پرائیویٹ سیکریٹری اور محمد صادق بلوچستان سے ساتھ آئے، جزیلا اسلم کا بطور رجسٹرار انتخاب کرنا اچھا فیصلہ تھا، کبھی کاز لسٹ بنانے میں دخل نہیں کیا۔
چیف جسٹس نے یقینی بنایا انٹیلی جنس ایجنسی اپنی حدود میں کام کریں: اٹارنی جنرل
الوداعی ریفرنس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیا گیا جس کے بعد فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود کو بطور قابل وکیل منوایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی بھی نمائندگی کی۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان میں تعلیمی نظام کی روانی یقینی بنائی، انہوں نے بلوچستان میں جنگلی حیات کو بچانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس بلوچستان 5 سال خدمات انجام دیں، انہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یقینی بنایا کہ انٹیلی جنس ایجنسی اپنی حدود میں کام کریں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یقینی بنایا کہ انٹیلیجنس ایجنسی سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس ہمیشہ بنیادی حقوق، آزادی اظہار اور خواتین کے حقوق کے علمبردار رہے، انہوں نے متعدد تاریخی فیصلے دیئے، فیض آباد دھرنا کیس میں قانون کے مطابق اور پرامن احتجاج کا تاریخی فیصلہ دیا، چیف جسٹس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو بھی واضح کیا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس بنتے ہی فل کورٹ ریفرنس بلایا گیا، جسٹس قاضی فائز نے مقدمات کو براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کے اختیارات کو کمیٹی کے سپرد کرنے جیسے اہم اقدامات اور فیصلے دیئے، چیف جسٹس کا عام انتخابات کے انعقاد میں اہم کردار ہے، تمام سٹیک ہولڈرز کو جمہوریت کی بقا کے لیے انتخابات پر راضی کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے والد پاکستان کے بانیان میں سے تھے۔
جسٹس فائز کو اکسائیں تو ان کے غصے سے بچنا مشکل ہے: نامزد چیف جسٹس
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں الوداعی ریفرنس سے سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت میرے اندر ملے جلے رجحانات ہیں۔ ایک طرف چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ پر دل اُداس ہے تو دوسری طرف خوشی بھی ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ اچھی صحت کے ساتھ ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو بہت اچھا انسان پایا۔ وہ بہت نرم مزاج انسان ہیں۔ اگر آپ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو اکسائیں گے تو پھر ان کے غصے سے بچنا مشکل ہے۔ میں نے بھی ایک مرتبہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے غصے کا سامنا کیا ہے۔ میرا یہ تجربہ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا۔ اس موقع پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگے جب کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خطاب پر مسکراتے رہے۔
فل کورٹ ریفرنس اختتام پذیر
چیف جسٹس کی تقریر کے بعد فل کورٹ ریفرنس اختتام پذیرہوگیا.
بنیادی حقوق کی یاد گار کا افتتاح
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بنیادی حقوق کی یاد گار دن رات کھلا رہے گا،اس میں آنے کی کوئی ٹکٹ نہیں ہے، رات کو اس میں خوبصورت لائیٹس لگائی گئی ہیں،اس یاد گار کو بنانے کا مقصد بنیادی حقوق کو لازم بنانا تھا،میں اس یادگار کو تعمیر کرنے میں مدد فراہم کرنے والے تمام لوگوں گا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
قبل ازیں پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار کی جانب سے الوداعی عشائیہ کے موقع پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے عشائیے میں تاخیر سے پہنچنے کی دو وجوہات ہیں، جسٹس نعیم اختر افغان نے تاخیر کی ایک وجہ ہیں۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا آپ کی پہلے حجامت ہوگی پھر آپ آئیے گا، میں حجامت کیلئے گیا مگر وہاں ایک بندہ فیشل کروا رہا تھا جو کبھی ختم نہ ہونے والا تھا، ان دو باتوں کی وجہ سے تاخیر سے پہنچا ہوں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس یحیی آفریدی کو ہم نہیں سمجھ سکے، جسٹس یحیی آفریدی کا لیول ہم سے اوپر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ٹاک شو میں دیکھا جس میں کہا جارہا تھا چیف جسٹس نے یہ فیصلہ دیا اور فلاں جج یہ فیصلہ دے گا، فل کورٹ میں سب ججز موجود تھے سب کے بارے میں اندازہ لگایا جارہا تھا، مگر جسٹس یحیی آفریدی کا کہا گیا کہ ان کا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کیا فیصلہ دیں گے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس یحیی آفریدی جو بھی فیصلہ دیں گے آئین و قانون کے مطابق ہوگا، لوگ ہمیں سمجھ گئے مگر جسٹس یحیی آفریدی کو کوئی نہیں سمجھ پایا‘۔